حق مدح کا ان کی نہ ادا ہو گا بشر سے

جب تک نہ لکھے کوئی بشر خونِ جگر سے بنتِ شہِ لولاک کے اس لختِ جگر سے ہو کیوں نہ محبت مجھے حیدرؓ کے پسر سے صورت ہے ضیا تاب سوا روئے قمر سے سیرت کی چمک دیکھ ذرا دل کی نظر سے وہ عارضِ تاباں کہ سدا نور ہی برسے وہ زلفِ سیہ رنگ […]

حیدرؓ کہ نورِ عین فلک بارگاہ کی

کیونکر ثنا ہو جانِ رسالت پناہ کی توقیر ایسی کب کسی زریں کلاہ کی جیسی ہے کربلائے معلّیٰ کے شاہ کی سیرت نہ پوچھ مجھ سے مرے قبلہ گاہ کی ہے تربیت جنابِ رسالت پناہ کی صورت جو دیکھئے تو زہے بادشاہ کی دل دیکھئے تو بو بھی نہیں حبِ جاہ کی صبر و رضا […]

خدا کا بندۂ محبوب ہے ختم الرسل ہے وہ

وہ مخدومِ دو عالم ہے مسلّم اس کی عظمت ہے تقابل کیجئے کس سے مقابل ہو نہ جب کوئی نرالی اس کی صورت ہے انوکھی اس کی سیرت ہے ہے فطرت نرم خوئی کی ہے عادت صلح جوئی کی برائے بندگانِ رب وہ ذاتِ پاک رحمت ہے کھری، دو ٹوک، سادہ آپ کی ہے گفتگو […]

خدمت میں ہے اس کی یہ مرا ہدیۂ اشعار

جو والی طیبہ ہے جو نبیوں کا ہے سردار خورشیدِ جہاں تاب ہوا جب وہ ضیا بار ہر گوشۂ ظلمت میں ہوئے صبح کے آثار بر روئے زمیں سب سے بڑی اس کی ہے سرکار پابوس ہیں دنیا کے شہنشاہ و جہاندار سر تا بہ قدم طُرفگی حسن کا معیار ہے از رخِ اخلاق وہ […]

ذرۂ ناچیز خاکِ کفشِ پائے مصطفیٰ

ہے بہ توفیقِ خدا مدحت سرائے مصطفیٰ صورتِ پُر نور و حسنِ دلربائے مصطفیٰ قامتِ موزون و قدِ دل کشائے مصطفیٰ عرشِ اعظم اللہ اللہ فرشِ پائے مصطفیٰ کون پہنچا ہے وہاں تک ماسوائے مصطفیٰ مستجابِ بارگاہِ حق دعائے مصطفیٰ مقتضائے ربِ عالم مقتضائے مصطفیٰ رہبری کے واسطے ہے نقشِ پائے مصطفیٰ روح کی تسکیں […]

ذرۂ ناچیز کیا یہ وہ شہِ عالم کہاں

لکھ سکوں مدحت نبی کی مجھ میں اتنا دم کہاں سیکڑوں آئے جلیل القدر پیغمبر مگر کوئی بھی ہم رتبۂ پیغمبرِ خاتم کہاں ورطۂ حیرت میں ڈالے واقعہ معراج کا دیکھئے پہنچا ہے وہ فخرِ بنی آدم کہاں واقفِ اسرارِ پنہاں جس قدر ہے مصطفیٰ رازِ دو عالم کا کوئی اس قدر محرم کہاں بعدِ […]

ذکر ان کا بصد عنواں قرآں کے سپاروں میں

مثل ان کے کہاں کوئی اللہ کے پیاروں میں ہے حسن کا شہ پارہ وہ حسن کے پاروں میں مشہور ہے دل آرا وہ عشق کے ماروں میں کونین میں شہرت ہے جس کی وہ محمد ہے یوسف کا ہوا چرچا بس زہرہ نگاروں میں تم آئے ہو آخر میں ہر چند یہ ہے برحق […]

سردارِ جہاں ختمِ رسل فخرِ بشر ہو

محبوب ہو اللہ کے منظورِ نظر ہو بستانِ نبوت کے تمہیں وہ گلِ تر ہو تا حشر خزاں کا نہ کبھی جس پہ اثر ہو شعلہ تری الفت کا شر ر بار اگر ہو صدیق ہو بوبکرؓ تو فاروق عمرؓ ہو خود چل کے کبھی سایہ فگن تم پہ شجر ہو انگلی سے کبھی معجزۂ […]

عقل میں کہاں طاقت علم میں کہاں وسعت

کر سکے کوئی کیونکر مدحِ سبطِ آنحضرت چاک سینۂ خامہ دل پہ حالتِ رقت لکھ رہا ہوں ایسے میں آنجنابؓ کی بابت آئینہ ہے ماضی کا سامنے تصور کے دیکھتا ہوں جو منظر دل کو اس پہ صد حیرت دشتِ کربلا میں ہے آلِ پاک کا خیمہ بات کیا ہوئی آخر پیش آئی کیا صورت […]

لکھنی پڑی جو آج اسے مدحتِ رسول

لرزہ بہ جسم خامہ ہے از عظمتِ رسول پتھر ہے یا وہ اور کوئی شے ہے سخت تر جس دل میں ہو نہ شائبۂ الفتِ رسول قائم ہے اور تا بہ قیامت یونہی رہے قرآنِ پاک سب سے بڑی آیتِ رسول اعزاز یہ ملا بہ طفیلِ شہِ حجاز فائق سب امتوں میں ہوئی امتِ رسول […]