اضطراب شوق بے حد میں کہیں رہتا ہے وہ

کائنات روح احمد میں کہیں رہتا ہے وہ دائرہ در دائرہ صدیاں بلاتی ہیں اسے سچی آوازوں کے گنبد میں کہیں رہتا ہے وہ یاد آتا ہے مصیبت میں دعاؤں کی طرح شہر کے ویران معبد میں کہیں رہتا ہے وہ خاک میں گھلتا لہو ہے منتظر اس کے لیے سرخرو ہونے کے مقصد میں […]