میرے احساس کے دریا میں روانی تجھ سے

اے گل جاں میرے ہونے کی نشانی تجھ سے موسم گل بھی ترا فصل خزاں بھی تیری میری آواز کے صحراؤں میں پانی تجھ سے تجھ سے تجھ سے ہی میری تمناؤں نے وسعت پائی! آنکھ کے رنگ سماعت کے معنی تجھ سے تجھ سے آنکھوں نے لیا رنگ پرکھنے کا ہنر لفظ کی جادوگری […]

پیکر دلربا بن کے آیا روح ارض و سما بن کے آیا

سب رسول خدا بن کے آئے وہ حبیب خدا بن کے آیا حضرت آمنہؓ کا دلارا حلیمہؓ کی آنکھوں کا تارا وہ شکستہ دلوں کا سہارا بے کسوں کی دعا بن کے آیا دست قدرت نے ایسا سجایا حسن تخلیق کو رشک آیا جس کا پایہ کسی نے نہ پایا وہ خدا کی رضا بن […]

ہر جان و ملک کیوں نہو شیدائے محمد

عالم میں ہوا کوئی نہ ہمسائے محمد ہیں شمس و قمر نقش کف پائے محمد معراج فلک ہے قد زیبائے محمد ہے عرش نہ عالم بالائے محمد پر آب رہے نرگس شہلائے محمد بے تاب رہے زلف چلپلائے محمد تھی بخشش امت جو تمنائے محمد تا عرش کئی بار گئے آئے محمد بیکل رہے امت […]

ہوئی خود حقیقت مخفی تھی جلی لباس مجاز میں

نظر آئی جس کو ضیائے ضو جسد قریش حجاز میں ہوا رونما جلوہ ترا جو احد سرائے طراز میں تو چھپائے احمد پاک کے نہ چھپا ہے وہ میم و راز میں وہی ذات بابرکت تھی بخدا سکون حیات تھی وہ ربوبیت کی شمولیت تھی ادائے حلم طراز میں وہی مصطفیٰ وہی مجتبی وہی مبتدا […]

ہے ثبت تری ذات سے تاریخ بشر میں

وہ عزم کے تھکتا نہیں طائف کے سفر میں تو نور ازل تاب سر مطلع تخلیق فیضان ضیا تجھ سے ہے دامان سحر میں خورشید کے کاسہ میں ترا صدقہ انوار خیرات ترے حسن کی کشکول قمر میں اے سارے جہانوں کے لیے مژدۂ رحمت احوال زمانوں کے سبھی تیری نظر میں درپیش ہے بے […]

آنکھوں میں نور دل میں بصیرت ہے آپ سے

میں خود تو کچھ نہیں مری قیمت ہے آپ سے ہے آپ ہی کے دم سے ایمان کی زمیں اور دین کی یہ چھت بھی سلامت آپ سے ہے آپ کا کرم یہ مری خواہش نمو گو خاک ہوں مگر مجھے نسبت ہے آپ سے یہ آپ ہی کا فیض دلوں کا گداز ہے ان […]

آں جملہ رسل ہادی برحق کہ گذشتد

برفضل تو ات ختم رسل وادہ گواہی در خلق و در خلو توئی نیر اعظم لاتدرک او صافک لم ندر کماہی یا احسن یا اجمل یا اکمل اکرم واللہ باخلا قک فی المایباہی ز آقا پریدی و زا فلاک گذشتی درجا تک فی السدرة غیر المنتاہی بل کیست حقیقت کہ عروج توز سدرہ والذکر لفی […]

اے ختمِ رُسل اے شاہِ زمن اے پاک نبی رحمت والے

تُو جانِ سخن موضوعِ سخن اے پاک نبی رحمت والے اے عقدہ کشائے کون و مکاں ترے وصف نہیں محتاجِ بیاں عاجز ہے زباں قاصر ہے دہن اے پاک نبی رحمت والے اے بدر و حنین کے راہ نما اے فاتحِ خیبر کے مولا ترا ایک اشارہ کُفر شکن اے پاک نبی رحمت والے تری […]

خورشید رسالت کی شعاؤں کا اثر ہے

احرام کی مانند مرا دامن تر ہے نظارۂ فردوس کی یا رب نہیں فرصت اس وقت مدینے کی فضا پیش نظر ہے اس شہر کے ذرے میں مہ و مہر سے بڑھ کر جس شہر میں اللہ کے محبوب کا گھر ہے یہ راہ کے کنکر ہیں کہ بکھرے ہوئے تارے یہ کاہ کشاں ہے […]

ذہن دل پر نقش ہے شہزاد کے طیبہ کا رنگ

ورنہ کھو دیتا اسے بھی دین کے اعدا کا رنگ اے محمد کے غلامو ہوش میں کب آؤ گے جم رہا ہے پھر جہاں میں قیصر و کسریٰ کا رنگ پیروی سنت سرکار میں رہتے جو تم دیکھتی دنیا کہ ہوتا اور ہی دنیا کا رنگ سبز گنبد سے جہاں میں روشنی ہی روشنی مر […]