بگڑی ہوئی بنتی ہے ہر بات مدینے میں

غم خوار محمد کی ہے ذات مدینے میں آؤ بھی گنہگارو پہنچو بھی مدینے میں بٹتی ہے شفاعت کی خیرات مدینے میں کچھ اشک ندامت کے کچھ ہار درودوں کے یہ لے کے چلیں گے ہم سوغات مدینے میں اے میرے خدا آئے اک دن تو وہ دن ایسا مکے میں جو دن گزرے ہو […]

ہے مرا چارہ گر مدینے میں

منزل و راہبر مدینے میں کتنی صبحیں ظہور کرتا ہے جاگنا رات بھر مدینے میں کتنی صدیوں پہ ہو گئے ہیں محیط میرے شام و سحر مدینے میں تو نے تو کچھ بھی دیکھنے نہ دیا اے مری چشم تر مدینے میں یاد فرمائیے مرے مولا مجھ کو بار دگر مدینے میں کتنے ہوتے ہیں […]

قلم ہاتھ میں لینا بعد میں پہلے دعا کرنا

کہ ممکن کو قمر سے نور اول کی ثنا کرنا ترے محبوب کی تعریف کرنے کا ارادہ ہے جو ممکن ہو تو اک پل کے لیے قدرت عطا کرنا پریشاں ہوں کہ بندے سے کوئی لغزش نہ ہو جائے کہ آساں تو نہیں حق نعت احمد کا ادا کرنا پھر اس کے بعد میں ہوں […]

وہ ابر فیض نعیم بھی ہے نسیم رحمت شمیم بھی ہے

شفیق بھی ہے خلیق بھی ہے رحیم بھی ہے کریم بھی ہے وہ حسن سیرت کا ہے مرقع جمال حق ہے جمال اس کا وہ پیکر فطرت معلے شبیہ خلق عظیم بھی ہے وہ علم و عرفاں کا مدینہ خزینہ راز اس کا سینہ وہ پیکر نور سرمدی ہے وہ حسن خلق عظیم بھی ہے […]

وہ لطف رنگ سحاب بھی ہے نسیم رحمت ماب بھی ہے

رسولوں میں انتخاب بھی ہے زمیں پہ گردوں کا رکاب بھی ہے رفیق بھی ہے خلیق بھی ہے آشنائے رمز طریق بھی ہے وہ ایک بحر عمیق بھی ہے بشر فرشتہ جناب بھی ہے وہ پیکر نور ہے مجسم وہ راز عرفان حق کا محرم وہ عاجزوں بیکسوں کا ہمدم وہ اک جلالت ماب بھی […]

وہ لہجہ وہ خلوص وہ انداز وہ خطاب

اس صاحب کتاب کا ہر لفظ اک کتاب امی تھا اور اس نے عمل کی دلیل سے ترتیب دے دیا ہے ہر اک دور کا نصاب وہ ہے تو سارا عالم امکاں ہے معتبر اس کے بغیر عالم موجود بھی سراب یہ عرش و فرش دیدۂ حیراں ہیں آج بھی پیدا نہ ہوگا اب کبھی […]

جتنا دیا سرکار نے مجھ کو اتنی مری اوقات نہیں

یہ تو کرم ہے ان کا ورنہ مجھ میں تو ایسی بات نہیں تو بھی وہیں پہ جا جس در پہ سب کی بگڑی بنتی ہے ایک تیری تقدیر بنانا ان کے لیے کچھ بات نہیں عشق شہ بطحا سے پہلے مفلس و خستہ حال تھا میں نام محمد کے قرباں اب وہ مرے حالات […]

کھل اٹھا رنگ چمن پھولوں کو رعنائی ملی

عکس روئے مصطفیٰ سے ایسی زیبائی ملی کھل اٹھا رنگ چمن پھولوں کو رعنائی ملی سبز گنبد کے مناظر دیکھتا رہتا ہوں میں عشق میں چشم تصور کو وہ گیرائی ملی جس طرف اٹھی نگاہیں محفل کونین میں رحمتہ للعالمین کی جلوہ فرمائی ملی بہر پا بوسی پہنچ جائیں حریم پاک تک یوں ہمارے منتظر […]