امام الانبیا ہیں، آپ ختم الانبیا
آپ سے ہی ابتدا ہے، آپ پر ہی انتہا آپ ہیں محبوبِ اُمت، آپ محبوبِ خدا آپ سا آیا نہ اب آئے گا کوئی آپ سا آپ کے در سے ملے جود و سخا، فقر و غنا آپ کے در سے سوالی کب کوئی خالی گیا آپ ہی خیر البشر ہیں، آپ ہیں خیر الوریٰ […]
معلیٰ
آپ سے ہی ابتدا ہے، آپ پر ہی انتہا آپ ہیں محبوبِ اُمت، آپ محبوبِ خدا آپ سا آیا نہ اب آئے گا کوئی آپ سا آپ کے در سے ملے جود و سخا، فقر و غنا آپ کے در سے سوالی کب کوئی خالی گیا آپ ہی خیر البشر ہیں، آپ ہیں خیر الوریٰ […]
بھول جاؤ گے لعل و گہر مانگنا مانگنا ربِّ اکبر سے عشقِ نبی سِیم و زر نہ ہی شمس و قمر مانگنا آپ بن مانگے بھی کر رہے ہیں عطا ہم پہ واجب ہے پھر بھی مگر مانگنا اُن سے کم مانگنا بھی ہے سوئے ادب اُن سے جب مانگنا بیشتر مانگنا جب بھی طیبہ […]
تو حکیم ہے تو کریم ہے، تو عظیم ہے تو عظیم ہے لکھے نعت حمد کے درمیاں، لکھے حمد نعت کے درمیاں یہ ظفرؔ کا ذوقِ سلیم ہے، تو عظیم ہے تو عظیم ہے
مرا سرکار کے قدموں میں سر ہو سوالی آپ کے لطف و کرم کا مرا قلبِ حزیں ہو، چشمِ تر ہو درُود و نعت ہو میرا وظیفہ جمالِ مصطفیٰ پیشِ نظر ہو جہاں سرکار کا نقشِ قدم ہو وہ میری رہگزر، میری ڈگر ہو زمانے بھر سے نظریں پھیر لوں میں اُدھر دیکھوں رُخِ زیبا […]
وہ قلبِ مطمئن ہے ہر گھڑی مسرُور ہوتا ہے خدا کی یاد ہوتی ہے، خدا سے بات ہوتی ہے خدا خود سینۂ عُشاق میں مُستور ہوتا ہے
وہ آپ کی رحمت کے طلبگار بھی ہوں گے جو آپ کی فرقت میں شب و روز ہیں گریاں عشّاق وہی طالبِ دیدار بھی ہوں گے وہ جن کی رسائی ہے درِ فیض رساں تک وہ عشق و محبت میں گرفتار بھی ہوں گے جو گنبدِ خضریٰ کی طرف دیکھ رہے ہیں وہ لطف و […]
بفیضِ مصطفیٰ بیٹھے ہوئے ہیں اُٹھا دست دُعا بیٹھے ہوئے ہیں ظفرؔ کم تر گدا بیٹھے ہوئے ہی
ہے تو ہی رہنما ہر بے بصر کا ترے لطف و کرم سے ہے سُبک سر ظفرؔ تھا دل گرفتہ دِل شکستہ
خدا قیوم دائم ہے سدا ہے خدا دیتا مریضوں کو شفا ہے خدا کا نام ہر سُو گونجتا ہے
درودوں کی صدا سے قلب و جاں میں نور بھرتے ہیں مرے آقا خدارا اک جھلک روئے منوّر کی زیارت کی تمنّا، دید کے ارماں مچلتے ہیں نظر کے سامنے جب گنبدِ خضریٰ ہو تب عاشق مسلسل اشک برساتے ہیں، کب آنکھیں جھپکتے ہیں متاعِ زندگی وہ وقت جو گزرے حضوری میں مبارک روز و […]