کبھی اُن کے آستاں پہ اپنی جبیں جھُکانا
کبھی اُن کے نقشِ پا پہ دیدہ و دِل بچھانا اُنھیں آپ خود بُلاتے، ہیں نوازتے بھی اُن کو درِ مصطفی پہ جن کا رہتا ہے آنا جانا تھا میں در بدر مسافر، خانہ بدوش، بے گھر سرکار کی گلی میں مجھے مل گیا ٹھکانہ تہی دست تھا، تونگر، مجھے آپ نے کیا ہے مجھے […]