جتنا مرے خدا کو ہے میرا نبی عزیز
کونین میں کسی کو نہ ہو گا کوئی عزیز خاکِ مدینہ پر مجھے اللہ موت دے وہ مردہ دل ہے جس کو نہ ہو زندگی عزیز کیوں جائیں ہم کہیں کہ غنی تم نے کر دیا اب تو یہ گھر پسند ، یہ دَر ، یہ گلی عزیز جو کچھ تری رِضا ہے خدا کی […]
معلیٰ
کونین میں کسی کو نہ ہو گا کوئی عزیز خاکِ مدینہ پر مجھے اللہ موت دے وہ مردہ دل ہے جس کو نہ ہو زندگی عزیز کیوں جائیں ہم کہیں کہ غنی تم نے کر دیا اب تو یہ گھر پسند ، یہ دَر ، یہ گلی عزیز جو کچھ تری رِضا ہے خدا کی […]
نہیں ممکن ہو کہ اُس سے خدا خوش شہِ کونین نے جب صدقہ بانٹا زمانے بھر کو دَم میں کر دیا خوش سلاطیں مانگتے ہیں بھیک اُس سے یہ اپنے گھر سے ہے اُن کا گدا خوش پسندِ حقِ تعالیٰ تیری ہر بات ترے انداز خوش تیری ادا خوش مٹیں سب ظاہر و باطن کے […]
عیبِ کوری سے رہے چشمِ بصیرت محفوظ دل میں روشن ہو اگر شمع وِلائے مولیٰ دُزدِ شیطاں سے رہے دین کی دولت محفوظ یا خدا محو نظارہ ہوں یہاں تک آنکھیں شکل قرآں ہو مرے دل میں وہ صورت محفوظ سلسلہ زُلفِ مبارک سے ہے جس کے دل کو ہر بَلا سے رکھے اللہ کی […]
گروہِ انبیا میں مصطفیٰ خاص نرالا حُسنِ انداز و اَدا خاص تجھے خاصوں میں حق نے کر لیا خاص تری نعمت کے سائل خاص تا عام تری رحمت کے طالب عام تا خاص شریک اُس میں نہیں کوئی پیمبر خدا سے ہے تجھ کو واسطہ خاص گنہگارو! نہ ہو مایوسِ رحمت نہیں ہوتی کریموں کی […]
سینے پہ تسلی کو ترا ہاتھ دھرا ہو کیوں اپنی گلی میں وہ روا دارِ صدا ہو جو بھیک لیے راہِ گدا دیکھ رہا ہو گر وقتِ اجل سر تری چوکھٹ پہ جھکا ہو جتنی ہو قضا ایک ہی سجدہ میں اَدا ہو ہمسایۂ رحمت ہے ترا سایۂ دیوار رُتبہ سے تنزل کرے تو ظلِّ […]
پھر تو خلوت میں عجب انجمن آرائی ہو آستانے پہ ترے سر ہو اَجل آئی ہو اَور اے جانِ جہاں تو بھی تماشائی ہو خاک پامال غریباں کو نہ کیوں زندہ کرے جس کے دامن کی ہوا بادِ مسیحائی ہو اُس کی قسمت پہ فدا تخت شہی کی راحت خاکِ طیبہ پہ جسے چین کی […]
بار بار اور بے شمار درود رُوئے اَنور پہ نور بار سلام زُلفِ اطہر پہ مشکبار درود اُس مہک پر شمیم بیز سلام اُس چمک پہ فروغ بار درود اُن کے ہر جلوہ پر ہزار سلام اُن کے ہر لمعہ پر ہزار درود اُن کی طلعت پر جلوہ ریز سلام اُن کی نکہت پہ عطر […]
رحمن خود ہے میرے طرفدار کی طرف جانِ جناں ہے دشتِ مدینہ تری بہار بُلبل نہ جائے گی کبھی گلزار کی طرف انکار کا وقوع تو کیا ہو کریم سے مائل ہوا نہ دل کبھی اِنکار کی طرف جنت بھی لینے آئے تو چھوڑیں نہ یہ گلی منہ پھیر بیٹھیں ہم تری دیوار کی طرف […]
صحرائے طیبہ ہے دلِ بلبل کو تُو پسند اپنا عزیز وہ ہے جسے تُو عزیز ہے ہم کو ہے وہ پسند جسے آئے تُو پسند مایوس ہو کے سب سے میں آیا ہوں تیرے پاس اے جان کر لے ٹوٹے ہوئے دل کو تو پسند ہیں خانہ زاد بندۂ احساں تو کیا عجب تیری وہ […]
یہ عرض ہے حضور بڑے بے نوا کی عرض اُن کے گدا کے دَر پہ ہے یوں بادشاہ کی عرض جیسے ہو بادشاہ کے دَر پہ گدا کی عرض عاجز نوازیوں پہ کرم ہے تُلا ہوا وہ دل لگا کے سنتے ہیں ہر بے نوا کی عرض قربان اُن کے نام کے بے اُن کے […]