درِ حبیب پہ رکھے خدا، گدا مجھ کو

میں کیا سے کیا ہوا، آخر تو ہے فنا مجھ کو خدا کے بعد ہے اک آسرا ترا مجھ کو میں خود کو بھول بھی جاؤں، نہ بھولنا مجھ کو جہان ایک ہی سجدہ میں مل گیا مجھ کو شعور آپ نے اتنا تو دے دیا مجھ کو مری حیات پہ برسے ہیں جذب کے […]

دل کے نگر میں رہتے ہیں میرے خدا اور میں

میرے پیارے، میرے محمد ، اُن کی ضیاء اور میں میری دنیا، میری دولت، اس سے بڑھ کر کیا شہرِ مدینہ، جنت منظر، بادِ صبا اور میں منظر ہے کیا دید کے قابل، میرے خدا کی شان رِم جھم رِم جھم جذب کی بارش، کوہِ صفا اور میں پاس ہمارے ہوتے ہیں وہ اپنے رب […]

دیارِ احمد مختار چل کے دیکھتے ہیں

نبی کے روپ کا گلزار چل کے دیکھتے ہیں دلوں کو جس سے سکون و قرار ہیں حاصل چلو وہ روضۂسرکار چل کے دیکھتے ہیں ثنا سے نعت مہکتی ہے میری دنیا میں سماں وہ محفل اذکار چل کے دیکھتے ہیں جہاں میں دوسرا اک پاک گھر نبی کا ہے چلو وہ گنبد و مینار […]

رنگ بکھرے ہیں مدینہ میں وہ سرکار کہ بس !

رنگ بکھرے ہیں مدینہ میں وہ سرکار کہ بس ہم نے دیکھا ہے مدینہ کا وہ گلزار کہ بس رات ہوتی تو مدینہ میں نہ دیکھی ہم نے یوں برستے ہیں مدینہ میں وہ انوار کہ بس بھول جاتی ہے خودی آپ کے قدموں میں حضور ہے وفا آپ کے قدموں میں وہ سرکار کہ […]

روز روشن بھی ترا لوحِ سیہ بھی تیری

تو ہے موعود کل عالم پر نگہ بھی تیری ابر باراں پہ نہ کر ناز کہ اے دست کریم کشت بے دانہ و بے آب و گیاہ بھی تیری ہم نے دیکھے ہی بنا تجھ کو بنایا معبود ہم تو اس دشت میں مانگے ہیں پنہ بھی تیری جشن میلاد میں خوش بو ہے تری […]

سجدہ گاہِ عالم میں، ایک ہو بھی ہو جائے

عرضِ مدعا اپنی، رُوبرو بھی ہو جائے شکر ہے خدا تیرا پی رہا ہوں زم زم میں پیاس بھی بجھے میری، جاں رفو بھی ہو جائے آنکھ دیکھ لے کعبہ، ہو جبین سجدے میں دل میں اپنے خالق سے گفتگو بھی ہو جائے دید مصطفیٰ چاہوں، ہے خدا دعا میری زندگی کی یہ پوری آرزو […]

سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں

تو دن میں اُڑتے پرندے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے نور برستا ہے شب میں رحمت کا چلو کہ رات وہاں ہم ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آتی ہے خوش بو وہاں کی گلیوں سے گلی گلی سے چلو ہم گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آتی ہے خوش بو حریم جنت سے […]

عالم کو حقیقت کی ہوا تک نہیں آئی

محبوب سے پہلے تو ندا تک نہیں آئی محبوب کے قدموں میں لگی آنکھ تو ایسی آواز کبھی، بانگ درا تک نہیں آئی فیضانِ نبی سے یہ سلیقہ ہے وگرنہ عالم کو تو جینے کی ادا تک نہیں آئی سوچا تھا کہ جائیں گے تو مانگیں گے بہت کچھ روضے پہ جو آئے تو دعا […]

فطرت حق کے اشارے دل بے تاب سمجھ

سر ہے سجدے میں تو سجدے کے بھی آداب سمجھ وہ ہے معبود، تو بندہ ہے ذرا سوچ کبھی اک اشارے پہ جو ٹکڑے ہوا مہتاب سمجھ گر ہے خواہش کہ نظر آئیں مقدس جلوے ایک خالق کے ہیں جتنے بھی وہ القاب سمجھ دل! اگر تجھ میں نہیں خوف خدا، خوف ابد دیکھتا تو […]

فلک پہ مل کے نجوم اک، قمر کو دیکھتے ہیں

کمال ہیں ترے جلوے جدھر کو دیکھتے ہیں حسین اس سے بھی فردوس ہو گی کیا، مولا؟ یہ تیرے گھر کے جو دیوار و در کو دیکھتے ہیں نبی کے حسن سے روشن ہوا ہے یہ عالم جہاں پہ تیرے کرم کی نظر کو دیکھتے ہیں ہیں تیرے نور کی کرنیں، سکونِ دل اس میں […]