لائے کوئی تو نبی ایک ہمارے کی مثال

وہ کہ نبیوں میں نبی قطب ستارے کی مثال میرے محبوب کا ثانی تو بڑی دور کی بات کوئی عالم میں نہیں اُن کے اشارے کی مثال عشق احمد میں عطا ہے مجھے تحفہ کیسا زندگی ساتھ ہے میرے کسی پیارے کی مثال ہم تو بس ذکر محمد میں مہکنا چاہیں نعت گوئی تو ہے […]

لحد چاہوں مدینے میں خدا، تیری عبادت میں

امانت جان میں دے دوں مدینے کی زیارت میں نہیں ہے خوف مرنے کا، تُو جانے کب سجے محشر مدینہ گر نہیں ہو گا، رہوں گا کیسے راحت میں جبیں بے چین ہے میری تڑپ دل میں تجھے دیکھوں کروں سجدے بہ چشم نم، رہوں تیری عدالت میں یہ دل کعبہ تو ہے مرا، نگاہوں […]

مجھے چاہیے مرے مصطفیٰ ترا پیار، پیار کے شہر کا

جو بدل کے رکھ دے نظام کو، دل بے قرار کے شہر کا سبھی تیرے در کے فقیر ہیں، ہو نظر ہمارے بھی حال پر کوئی چھاؤں ہے، نہ نظام ہے ترے غمگسار کے شہر کا میں ہو مست ذکر حبیب میں، ہے نشہ ہی ایسا فضاؤں میں ہے قسم خدا کی، میں کیا کہوں، […]

میں خاک ہوں مولا، تو مرا پھول بدن کر

قندیلِ محمد ، سے تو روشن مرا من کر تُو ہر جگہ موجود ہے، لیکن مرے مولا! کعبہ و مدینہ کو تو میرا ہی وطن کر شاداب کروں دل کو نگاہوں سے کرم ہو دیکھوں ترے کعبے کو میں تصویر سا بن کر میں حمد پڑھوں اور کہوں نعت محمد تُو اپنی تجلی سے منور […]

نبی کی نعت پڑھتا ہوں کہ ہے یہ دل کشی میری

سجائی آپ نے دار العمل میں زندگی میری محمد مصطفیٰ سے عشق میں اعزاز ہے مجھ کو مرے اللہ نے بیت اللہ میں لکھی حاضری میری مرے دل کی ہر اک دھڑکن میں دھڑکے یارسول اللہ صدا دل شاد ہو جو عاشقی ہے آپ کی میری میں کیا مانگوں مرے مولا مجھے بس ہے عطا […]

نعت گلزار مدینہ میں سناتے، جاتے

ہم بھی خوش بوئے محمد میں نہاتے جاتے در پہ محبوب کے کوثر کے تمنائی کو ہم بھی پیالے اُنہیں زم زم کے پلاتے جاتے کوئی مشکل تو نہیں تھا مرے محبوب خدا جلوہ گر ہوتے یہاں، عرش پہ آتے جاتے دل میں جلوے ہیں فروزاں ترے محبوب نبی پیاس آنکھوں کی مدینہ میں بجھاتے […]

نہیں ہے ارض وسما میں کوئی شریک خدا

نبی کے مثل جہاں میں جو ہے کوئی تو بتا خدا کا عرشِ معلی سجا ہے جنت سے جہاں کا حسن مدینے میں گنبد خضریٰ میں جانتا ہوں دیا جو مجھے خدا نے دیا درِ رسول سے مومن کو کیا نہیں ہے ملا دلوں میں عشق خدا سے دئیے ہوئے روشن جہاں کے بزم میں […]

وہ زندگی میں نظارے سحر کے دیکھتے ہیں

نبی کو دل میں جو اپنے اُتر کے دیکھتے ہیں نبی کے حسن اشارے میں اک حرارت ہے کہ دل میں آج بھی شق القمر کو دیکھتے ہیں چلے ہیں قافلے حج کے لیے خدا کے گھر چلو کہ ہم بھی ستارے سفر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حمد و ثنا ہی سے دید ملتی […]