کون جانے کس بلندی پر مرے سرکار ہیں

سب جہاں مجبور ہیں یہ احمد مختار ہیں کہہ دو یہ اُن سے جو حق کے طالب دیدار ہیں حق سے ملنے کے مدینہ ہی میں کچھ آثار ہیں آسماں والے بھی کرتے ہیں مدینہ کا طواف عرش اعظم سے بھی اونچے یہ در و دیوار ہیں کیوں نہ آنکھوں سے لگائیں ہم مدینہ کی […]

کُن کی اَذانِ ناز کا جوہر نبی مرا

خلقت کی ہر بہار کا جھومر نبی مرا رَوشن ہے کہکشاؤں میں حُسنِ محمدی سوچو تو کس قَدَر ہے منور نبی مرا رَحمت کرے طواف ، محمد کے نور کا اَبرِ کرم کا شبنمی محور نبی مرا پتھر پہ اِک لکیر ہے شقُ القمر کا باب کنکر کو جو بنا دے سُخن وَر نبی مرا […]

عزم حسین! سرِ حق ایثار اولیاء

یہ کار انبیاء ہے کہ شہکارِ اولیاء سلطانِ کربلا کی حضوری میں رات دن آراستہ ہی رہتا ہے دربارِ اولیاء ایک ایک سانس کیوں نہ کرامت بدوش ہو روحِ ّحسینیت ہے طرفدارِ اولیاء بے دام بکنے کے لیے بے چین ہر کوئی واللہ کربلا ہے کہ بازارِ اولیاء آلِ نبی کی ُطرفہ بہاریں نہ پوچھئے […]

اشکوں کی چادر چہرے پر آنکھوں میں گنبد عالی ہے

خوابوں کا نگر آباد رہے خوابوں میں سنہری جالی ہے رحمت کے رنگ انوکھے ہیں بخشش کی شان نرالی ہے اُس در کی عطائیں کیا کہنا جس در پر وقت سوالی ہے محشر کے جلتے لمحوں کا خوف اور مسلماں ہو کے ہمیں؟ اشکوں سے نبی نے اُمت کی ہر فردِ عمل دھو ڈالی ہے […]

آخری عکس

گرد گرد لمحوں میں عکس بے شمار گرد گرد لمحوں میں عکس بے شمار اُترے رنگ سینکڑوں بکھرے لاکھوں تاروں نے آکر اپنا نور پھیلایا اپنے اپنے وقتوں میں اپنے اپنے جلوؤں سے آئینے کو چمکایا لیکن اب بھی دھندلا تھا آئینہ ہدایت کا گرد اُن زمانوں کی دھول داستانوں کی تھی ابھی بہت باقی […]

ایمان کا نشان ہیں سلمان فارسی

واللہ میری جان ہیں سلمان فارسی صدیق کا شعور و بیاں اور بہ لفظہٖ! فاروق کی زبان ہیں سلمان فارسی رگ رگ میں ہیں خدا و محمد بسے ہوئے روحانیت کی جان ہیں سلمان فارسی یاد آتی ہے حضور کی انساں نوازیاں کیسا حسیں جہان ہیں سلمان فارسی اک رات ہی میں جرم ’’مدائن‘​‘​ ہوئے […]

ایک روشنی زمین سے آسمان تک

حضور ہی ہیں چراغِ راہ ہدایت ایسےحضور ہی ہیں چراغِ راہ ہدایت ایسے کہ جو ازل سے ابد تلک زندگی کے تمام تر قافلوں کی ہر آن رہنمائی کو ضوفشاں ہیں حضور ہی ہیں وفا کا وہ ماہتاب جس کی شفیق کرنوں میں چہرہ جور و جفا ہرگز نکھر نہ پایا اِک آفتابِ نبوت ایسا […]

اے نویدِ مسیحا دُعائے خلیل

نفرتوں کے گھنے جنگلوں میں شہا عہد حاضر کا انسان محصور ہے مشعلِ علم و اخلاق سے دُور ہے کتنا مجبور ہے اے نویدِ مسیحا دُعائے خلیل روک دے نفرتوں کی جو یلغار کو پختگی ایسی دیں مرے کردار کو آپ کا لطف و رحمت تو مشہور ہے