باعث کون و مکاں زینتِ قرآں یہ نام

اسمِ محمد باعث کون و مکاں زینتِ قرآں یہ نام ابرِ رحمت ہے جو کونین پہ چھا جاتا ہے دردمندوں کے لیے درد کا درماں یہ نام لوحِ جاں پر بھی یہی نقش نظر آتا ہے اک یہی نام تو ہے وجہِ سکوں وجہِ قرار اک یہی نام کہ جلتے ہوئے موسم میں اماں ہے […]

ضمیر کی قید میں

بتوں کے آگے نہ سر جھکانا نہ اپنے دامن میں آگ بھرنا یہی وہ پہلا پیامِ حق تھا جسے بھلا کر ہم آج پھر سے کئی بتوں کے حضور سجدوں کے امتحاں سے گذر رہے ہیں اور اپنے دامن میں روز و شب آگ بھر رہے ہیں خدا کے آگے نہ جھکنے والے انا و […]

جب بھی ہم تذکرۂ شہرِ پیمبر لکھیں

اُس کو بالائے زمیں خلد کا منظر لکھیں گفتگو یاد کریں کھول کے قرآنِ حکیم پھر انہیں لفظ و معانی کا سمندر لکھیں تلخ گفتار کا ماحول بدلنے کے لیے تذکرہ آپ کے اخلاق کا ُکھل کر لکھیں آؤ آرام گہہِ شہ کی بنائیں تصویر ہاتھ کا تکیہ لکھیں خاک کا بستر لکھیں ہوگا الفاظ […]

خاک کو عظمت ملی سورج کا جوہر جاگ اُٹھا

آپ کیا آئے کہ ہستی کا مقدر جاگ اُٹھا تیرگی سے خوف کھا کر جب پکارا آپ کو! جسم و جاں میں روشنی کا اک سمندر جاگ اُٹھا جب ہوئی ان کی صداقت کو شہادت کی طلب ہاتھ میں بوجہل کے ہر ایک کنکر جاگ اُٹھا رو کے سویا ہی تھا میں یادِ پیمبر میں […]

ختم ہونے ہی کو ہے در بدری کا موسم

جلد دیکھوں گا میں شہر نبوی کا موسم فرش پر عرش کے حالات سنائے ہم کو اُن کے آنے سے گیا بے خبری کا موسم آپ نے آکے بتائے ہیں بصیرت کے رموز آپ سے سب کو ملا خوش نگہی کا موسم اُن کی نسبت سے دُعاؤں کا شجر سبز ہوا ورنہ ٹلتا ہی نہ […]

خدا ہی جانے ہمیں کیا خبر کہ کب سے ہے

جو اُن کے ذکر کا رشتہ ہمارے لب سے ہے نہ اُن سے پہلے کوئی تھا نہ اُن کے بعد کوئی جُدا جہاں میں نبی کا مقام سب سے ہے ہو دل کا نور، نگاہوں کا نور، علم کا نور ہر ایک نور کو نسبت مہِ عرب سے ہے مری پکار درِ سیّدالوریٰ تک ہے […]

خواب روشن ہو گئے مہکا بصیرت کا گلاب

جب ِکھلا شاخِ نظر پر اُن کی رویت کا گلاب گفتگو خوشبو کے لہجے میں سکھائی آپ نے خارِ نفرت چن لیے دے کر محبت کا گلاب خُلق کی خوشبو تمام اَدوار میں رچ بس گئی باغِ ہستی میں ِکھلا یوں ان کی شفقت کا گلاب زیست کے تپتے ہوئے صحرا میں ہے وجہِ سکوں […]

خوابوں کی دہلیز

ایک خواہش مرے دل میں برسوں سے ہے میری راتیں اُجالوں سے معمور ہوں میری آنکھیں تجلّی کی روشن سحر پا کے مسرور ہوں میری تاریک دنیا میں ایسی بھی ہو اک سحر جلوہ گر سب سے میں کہہ سکوں میرے خوابوں کی دہلیز پر رات بھر لمحے لمحے کو سورج بناتے رہے جگمگاتے رہے […]

دُعا کا آسمان

وہ آسمانِ دُعا کہ جس پر تمام عمروں تمام نسلوں کا سُکھ لکھا ہے وہ جس میں ہم اپنی سب تمنّاؤں اور جذبوں کو وسعتیں دے رہے ہیں سرشار ہو رہے ہیں وہ ایک شہرِ جزا کہ جس میں ہمارے آنسو (خوشی کے آنسو) چراغ بننے کے منتظر ہیں وہ آسمانِ دُعا ہے کس کا […]

دُھوپ میں تلاشِ سائباں

مجھے یقیں ہے وہ سن رہے ہیں نگاہِ خاموش کی صدائیں دُکھوں سے بوجھل مری نوائیں وہ جانتے ہیں ہزارہا درد و غم کی شمعیں فسردہ سینوں میں جل رہی ہیں یہ جسم و جاں جو شکست خوردہ ہیں سوچتے ہیں غم و الم کی جو دھوپ پھیلی ہوئی ہے اس میں کرم کے بادل […]