ایک ادا
اپنے آقا کے خالی شکم پر بندھے پتھروں کو جو دیکھا تو کعبے نے بھی اپنے خالی شکم پر انہیں کی طرح حجر اسود کو باندھا تھا اور آج بھی جی رہا ہے بڑی ہی عقیدت کے ساتھ اپنے آقا کی اس ایک سُنّت کے ساتھ
معلیٰ
اپنے آقا کے خالی شکم پر بندھے پتھروں کو جو دیکھا تو کعبے نے بھی اپنے خالی شکم پر انہیں کی طرح حجر اسود کو باندھا تھا اور آج بھی جی رہا ہے بڑی ہی عقیدت کے ساتھ اپنے آقا کی اس ایک سُنّت کے ساتھ
نفرتوں کے گھنے جنگلوں میں شہا عہدِ حاضر کا انسان محصور ہے مشعلِ علم و اخلاق سے دور ہے کتنا مجبور ہے اے نوید مسیحا دُعائے خلیل روک دے نفرتوں کی جو یلغار کو پختگی ایسی دیں میرے کردار کو آپ کا لطف و رحمت تو مشہور ہے سیّد صبیحؔ الدین رحمانی __________ یہ آزاد […]
آپ کو خود مانگنے آیا ہے منگتا آپ کا محفلِ محشر میں دیدارِ خدا ہوگا ضرور کاش ایسے میں نظر آجائے جلوہ آپ کا لاکھ سجدے ہوں مگر سجدے سے کیا حاصل اسے جس کی قسمت میں نہ ہو نقشِ کف پا آپ کا آفتابِ روزِ محشر کو چمکنے دیجیے جلوہ گر ہے ہم سیہ […]
ان کا غم شوق کا سنوارا ہے مہر و مہ حشر تک کریں گے طواف چشمِ سرکار کا اشارا ہے ہاتھ پھیلانے کی نہیں حاجت کیسے داتا کا یہ دوارا ہے ہر کسی کے شریکِ غم ہیں حضور کون دنیا میں بے سہارا ہے کیا کہوں سبز سبز گنبد کو نورِ وحدت کا ایک دھارا […]
ہر طرف روشنی روشنی ہوگئی سجدہ گاہ حضورِ نبی ہوگئی بندگی واقعی بندگی ہوگئی رحمتیں دیکھتی ہیں مری سمت خود کیسی قسمت گنہگار کی ہوگئی ان کے جلووں کی پھیلی جو تابانیاں دور دُنیا سے سب تیرگی ہوگئی اللہ اللہ شانِ کلامِ نبی جو کہا حق کی مرضی وہی ہوگئی ذکرِ ّجنت ذرا بھی جہاں […]
طوفِ کعبہ میں بھی طیبہ کی سلامی چاہیے مشکلیں خود مشکلوں میں مبتلا ہو جائیں گی ہاں زبانِ دل سے وردِ نامِ نامی چاہیے عرش کیا معراج کیا اور منزلِ قوسین کیا اس سے بڑھ کر آپ کو اعلیٰ مقامی چاہیے ہر مَلک صرف ایک بار آتا ہے درِ دربارِ پاک کم سے کم اتنا […]
سلام کے لیے حاضر غلام ہو جائے نظر سے چوم لوں اِک بار سبز گنبد کو بلا سے پھر میری دنیا میں شام ہو جائے تجلّیات سے بھرلوں میں کاسۂ دل و جاں کبھی جو اُن کی گلی میں قیام ہو جائے حضور آپ جو چاہیں تو کچھ نہیں مشکل سمٹ کے فاصلہ یہ چند […]
شعاعیں ہر سو چمک رہی ہیں مگر وہ جلوہ حجاب میں ہے قریبِ مے خانۂ محمد نہ ہوش باقی نہ جوش ساقی جسے بھی دیکھو بصد عقیدت وہ مست دورِ شراب میں ہے نفس نفس ان کا نام نامی قدم قدم سجدۂ غلامی کلامِ مطلق میں جو لکھا ہے وہ درس میرے نصاب میں ہے […]
انسان کیا بیان کرے تیری ُکل صفات دل ہیژدہ ہزار زمانوں کو کیا کہے؟ اک لفظ ُکن سے وضع کیے تو نے شش جہات ہر برگِ ُگل میں تو نے سموئی الہٰیّت انسان کیسے سمجھے بھلا رنگِ درسیات تیرا عطا کیا ہوا ہر دُکھ بھی اے کریم واللہ اہلِ عشق کو ہے جانِ محسنات قطروں […]
یہ فیض یہ عظمت مرا حقِ ازلی ہے جنت کے لیے مرتے ہو کیوں اہلِ محبت جنت کی بھی ّجنت مرے آقا کی گلی ہے انسان پہ ُکھلے کیسے مقامِ شہِ کونین یہ راز حقیقت ہے خفی ہے نہ جلی ہے آنکھوں سے نہیں اُٹھتی چمک اُٹھتی ہے دل میں گردِ رہِ طیبہ نہیں سونے […]