دل و جانِ دو جہاں ہے کہ ہے جانِ ہر زمانہ

جہاں سر ادب سے رکھ دو وہیں ان کا آستانہ وہاں سر نہ کیسے خم ہو بصد عجز والہانہ جہاں ذرّے ذرّے میں ہے اک ادائے معجزانہ مجھے حشر کی تمازت بھلا کیا ستا سکے گی تیری رحمتوں کا ہوگا مرے سر پہ شامیانہ میں ہوں محو شوق سجدہ مجھے کچھ خبر نہیں ہے ترا […]

ذرّے بھی اس کو دیدۂ بینا کی روشنی

ہاتھ آئے جس کو خاک کفِ پا کی روشنی آنکھیں بچھا رہے ہیں مہ و برق و آفتاب کیسے بیان ہو مرے آقا کی روشنی عرش بریں پہ جلوے کچھ ایسے بکھر گئے اب تک ہے دن کا دل شبِ اسریٰ کی روشنی صرف ایک شہر طیبہ ہی مرکز نہیں کوئی جنت میں بھی ہے […]

ذکر سرکار، دو عالم سے سوا رکھا ہے

یہ طریق اہلِ محبت نے روا رکھا ہے آپ کے نام سے مقبول ہے کاوش میری ورنہ میں کیا مرے اشعار میں کیا رکھا ہے قدم صاحب معراج نے بخشا ہے عروج ورنہ سچ پوچھو تو کونین میں کیا رکھا ہے ارضِ طیبہ کا تصوّر ہے سبق جینے کا حق نے مٹی میں بھی کیا […]

روحِ دیں ہے عید میلادُالنبی

کیا حسیں ہے عید میلادُالنبی سوزِ جاں ہے عید میلادُالنبی سازِ دیں ہے عید میلادُالنبی جس طرف دیکھو ملک محوِ سلام بالیقیں ہے عید میلادُالنبی وہ مکمل ہیں کتابِ معرفت شرحِ دیں ہے عید میلادُالنبی جس پہ قائم آسمانِ احدیت وہ زمیں ہے عید میلادُالنبی کیوں نظر آئیں نہ جلوے صاف صاف دُوربیں ہے عید […]

سر نہیں جھکتا ہے نہ جھکے، دل جان سے جھکتا لگتا ہے

راہِ نبی کا ذرّہ ذرّہ مجھ کو تو کعبہ لگتا ہے روح مجسم ہوتی ہے لمحات سلامی دیتے ہیں یادِ نبی جب آجاتی ہے کیا کہوں کیسا لگتا ہے جب وہ طلب فرمائیں گے میں اُڑ کے مدینے پہنچوں گا حاضریٔ فردوسِ بریں میں اپنا بھلا کیا لگتا ہے غرقِ ادب ہو جاتا ہے ہر […]

سوالیہ نشاں

تو ہی بتا دے مجھے اے وقار ارض و سماںسوالیہ نشاں تو ہی بتا دے مجھے اے وقار ارض و سماں مرے نصیب میں کب تک نہیں زمیں کی جناں دیارِ پاک میں کب ہوگی حاضری میری؟ ہمیشہ سامنے ہے اک ’’سوالیہ سا نشاں‘‘ توہی بتا دے مجھے اے وقار ارض و سماں

شمع دیں کی کیسے ہو سکتی ہے مدہم روشنی

بزمِ طیبہ میں برستی ہے جھماجھم روشنی خاک پائے شاہ کو سرمہ بنا لیتا ہوں میں میری آنکھوں میں کبھی ہوتی ہے جب کم روشنی نورِ مطلق کے قریں بے ساختہ پہنچے حضور روشنی سے کس قدر ہوتی ہے ِمحرم روشنی نقش پائے شہ کی ہلکی سے جھلک ہے کارگر کیسے ہو سکتی ہے مہر […]

عزم

رہِ طیبہ میں دیوانہ چلتا ہوا دم بہ دم گرتا پڑتا سنبھلتا ہوا جا رہا ہے سوئے سیدالانبیا شوق ہے رہنما اور کرم ساتھ ہے اک نہ اک دن یقینا پہنچ جائے گا ورد صلِّ علیٰ کا وہ کرتا ہوا

فرازِ عرش پہ معراجِ معنوی کیا ہے

درِ نبی ہو میسّر تو بندگی کیا ہے خدا گواہ! مسلسل ہے بولتا قرآں حضور سیّد عالم کی زندگی کیا ہے ہر ایک سانس کی آواز یا رسول اللہ ہم اہلِ عشق کا مفہوم زندگی کیا ہے بغیر ان کے عبادت کا حق بھی ہے ناحق مقام حشر میں تم دیکھنا ابھی کیا ہے خدائی […]

قدرتِ حق کا شہکارِ قدرت اک نظردیکھ لوں دور ہی سے

بے زیارت کے بے کیف جینا میں تو باز آیا اس زندگی سے آپ کے در پہ دھونی رمائے پھر خود آدابِ حق سیکھ جائے بندہ پرور اگر ہو اجازت، صاف کہہ دوں میں یہ بندگی سے لطف سجدوں کا اس وقت ہوگا، بے حجابانہ جب ُحسن ہوگا بے محمد کے سر کو جھکانا اک […]