سادات کا نشاں ہیں مشرف حسین شاہ

روحانیت کی جاں ہیں مشرف حسین شاہ جو گذرا ان کے در سے شرف یاب ہوگیا عظمت دِہ جہاں ہیں مشرف حسین شاہ کہتی ہیں خود ہی مرقد انور کی نکہتیں گلدستۂ جناں ہیں مشرف حسین شاہ جتنا ادب سے سر جھکے اتنا ہو سرفراز ایسے حق آستاں ہیں مشرف حسین شاہ انسان کیا ہے […]

ارضِ طیبہ عجیب بستی ہے

جس کو ہر اک نظر ترستی ہے بالیقیں زائر حرم کے لیے ہر قدم جذب کیف و مستی ہے آپ کی ذاتِ پاک ہے سب کچھ مری ہستی بھی کوئی ہستی ہے دل کی دنیا کو کیا کہیں آخر رحمتِ عرش خود برستی ہے سرِ بازار جنسِ عشق حضور جتنی مہنگی ہے اتنی سستی ہے […]

اس طرح جانِ دو عالم ہے دل و جان کے ساتھ

جیسے قرآن ہو خود صاحبِ قرآن کے ساتھ دل میں یوں ہی رہے ارمانِ مدینہ یارب ورنہ یہ دم بھی نکل جائے گا ارمان کے ساتھ یادِ والا نے تہہ قبر بڑا ساتھ دیا ورنہ کچھ بھی نہ تھا مجھ بے سروسامان کے ساتھ روحِ اسلام کا مفہوم ادا ہو جائے ملے اخلاق سے انسان […]

اصحاب یوں ہیں شاہِ رسولاں کے اردگرد

جیسے ستارے ماہِ درخشاں کے اردگرد باغِ جناں کی سیر کو جی چاہتا نہیں پھیرے کیے ہیں ایسے گلستاں کے اردگرد اک آنکھ سوئے عشق ہے اک آنکھ سوئے فرش کونین ہیں ہمارے دل و جاں کے اردگرد پروانہ بن کے آ گئے سدرہ سے جبرئیل وہ نورِ حق ہے شمعِ فروزاں کے اردگرد جب […]

آئے نظر جو وہ رُخِ قرآن کسی دن

آئینہ بنے دیدۂ حیران کسی دن ہنس ہنس کے نہ دیکھیں مجھے یہ عازمِ طیبہ نکلے گا مرے دل کا بھی ارمان کسی دن میں آ نہیں سکتا تو حضور آپ بلائیں احسانوں پر اک اور بھی احسان کسی دن موجوں سے جو ہوتی رہیں سرکار کی باتیں ساحل پہ مجھے لائے گا طوفان کسی […]

آرزو قلبِ مضطر کی یارو! ان کے در کے سوا کچھ نہیں ہے

وہ نوازیں گے اک دن ہمیں بھی ان کی رحمت پہ کامل یقیں ہے ایسی دوری پہ قربان جاؤں دور رہ کر بھی دوری نہیں ہے یہ کرم بھی کرم در کرم ہے میں یہاں ہوں مرا دل وہیں ہے ہر قدم کعبۂ دل بنا ہے اور قبلہ نما ہو گیا ہے شوقِ منزل میں […]

آنکھوں نے جہاں خاک اُڑائی ترے در کی

خود قلب میں صورت اُتر آئی ترے در کی کعبہ بھی، سرِ عرش بھی، فردوس و نجف بھی وہ دل! جسے حاصل ہو رسائی ترے در کی مقصود حقیقی نے قدم بڑھ کے لیے ہیں جس نے بھی جہاں دی ہے دُھائی ترے در کی میں اہلِ محبت میں امرالامراء ہوں راس آئی ہے یوں […]

آپ خیرالانام صاحب جی

اور میں ادنیٰ غلام صاحب جی حق نے کونین پر کیا لازم آپ کا احترام صاحب جی انبیاء مقتدی نہ کیسے ہوں آپ جب ہیں امام صاحب جی عرش قدموں کے بوسے لیتا ہے اتنا اعلیٰ مقام صاحب جی ابر رحمت کو کوئی اِک چھینٹا ہوں بہت تشنہ کام صاحب جی دونوں عالم میں کام […]