رخشندہ تیرے حسن سے رخسار یقیں ہے
تابندہ ترے عشق سے ایمان کی جبیں ہیں جس میں ہو ترا ذکر وہی بزم ہے رنگیں جسمیں ہو ترا نام وہی بزم حسیں ہے ہر گام ترا ہمقدم گردش گردوں ہر جادہ ترا رہگذر خلد بریں ہے چمکی تھی جو کبھی ترے نقش کف پا سے اب تک وہ زمیں چاند ستاروں کی زمیں […]