منور صبح ہوگی روضۂ خیرالوریٰ ہوگا

زبانِ شوق پر صل علیٰ صل علیٰ ہوگا جمالِ گنبدِ خضرا پہ صدقے ہوگا دل اپنا مٹیں گے فاصلے دل ہوگا بابِ حسن وا ہوگا سہارا دے گی رحمت آپ کی خود اپنے مجرم کو گناہوں کے تصور سے جہاں دل ڈوبتا ہوگا برستی ہوں گی آنکھیں جرمِ عصیاں کے تصور سے زباں خاموش ہوگی […]

منگتوں کو سلطان بنایا میرے کملی والے نے

جب اپنا دربار سجایا میرے کملی والے نے مال وزر کی بات نہیں ہے یہ تو کرم کی باتیں ہیں جس کو چاہا در پہ بلایا میرے کملی والے نے گود میں لے کر وائی حلیمہ پیارے نبی سے کہتی تھی میرا سویا بھاگ جگایا میرے کملی والے نے خود تو ٹھہرے ختمِ رسل غوث […]

میں سرپہ سجائےپھروں نعلینِ محمد

میں سر پہ سجائے پھروں نعلینِ محمد آنکھوں سے لگائے پھروں نعلینِ محمد انساں ہوں فرشتے ہوں سبھی کوہی طلب ہے ہراک سے چھپائے پھروں نعلینِ محمد ہے انجمنِ دل میں قیامت کا چراغاں میں دل میں بسائے پھروں نعلینِ محمد مس ان سے ہوئی خاک، مری آنکھ کا سرمہ آنکھوں میں سمائے پھروں نعلینِ […]

نعت لکھنے کا یہ سامان بنا لوں تو لکھوں

مشک و عنبر سے دہن اپنا بسا لوں تو لکھوں چشمِ حوران بہشتی کا میں کاجل پا لوں شاخِ سدرہ سے قلم پہلے بنا لوں تو لکھوں یا قلم کی جگہ مل جائے مجھے نوکِ ہلال صحفہِ شمس سے خالی اسے پا لوں تو لکھوں صبغتہ اللہ سے رنگین تو کر لوں کاغذ حاشیہ کاہکشان […]

نعت لکھنے کو جو کاغذ پہ لکھا بسم اللہ

آئی جبریل کی فورا ہی صدا ،بسم اللہ نعت لکھنے کے لیے پہلے دعا مانگتے ہیں اور پڑھتے ہیں سدا قبل دعا،بسم اللہ میں نے کاغذ پہ کیا سورہ یسٰین کودم اورخامے سے کہا ،صل علیٰ بسم اللہ دین اسلام کی نصرت کا جہاں آیا سوال ایک ہی گھر تھا،کہا جس نے سدا بسم اللہ […]

چاند سورج ترے ، ہر ایک ستارہ تیرا

ظلمتِ دہر میں ہر سو ہے اجالا تیرا گو ترے عہدِ مبارک سے رہا ہوں محروم تیری سیرت میں نظرآتا ہے چہرہ تیرا تیری امت ، تری نسبت کے شرف سے زندہ تیری نکہت سے مہکتا رہا صحرا تیرا معجزہ تیری نبوت کاہے کتنا روشن یعنی ہے مصحفِ قرآں ، یدِ بیضا تیرا چاہیے خیر […]

چمک چمک کے ستارے سلام پڑھتے ہیں

حضورِ شاہ میں اپنا کلام پڑھتے ہیں ہے انتہائے عنایت کہ ذاتِ شہ پہ درود مجھ ایسے کمترو بے ننگ ونام پڑھتے ہیں یہی تو ہے درِ آقا،اس آستاں پہ سبھی بڑے ادب سے صلات وسلام پڑھتے ہیں فرشتے بھی رہیں کیوں پیچھے اس عبادت میں سلام پڑھتے ہیں وہ بھی مدام پڑھتے ہیں زباں […]

کوئی اسلوب دسترس میں نہیں

نعت کہنا کسی کے بس میں نہیں والہانہ کروں ثنائے نبی میں کسی فکرِ پیش و پس میں نہیں اُن کے آنے سے کیا بہار آئی جو قفس میں تھا وہ قفس میں نہیں زندگی رنگ خوشبوئیں ندرت کیا مدینے کے خار و خس میں نہیں کیا تنفس کا فائدہ جاودؔ جب وہ شامل نفس […]

کون و مکاں میں اُن کی فضیلت کی دھوم ہے

علم و شعور و دانش و حکمت کی دھوم ہے وہ صادق و امیں تھے نبوت سے پہلے بھی اُن کی صداقت اور امانت کی دھوم ہے تنہائیوں میں ذکر محافل میں وعظ و درس دنیا میں اُن کی خلوت و جلوت کی دھوم ہے جو اُن کے در پہ آ گیا خالی نہیں گیا […]