منور صبح ہوگی روضۂ خیرالوریٰ ہوگا
زبانِ شوق پر صل علیٰ صل علیٰ ہوگا جمالِ گنبدِ خضرا پہ صدقے ہوگا دل اپنا مٹیں گے فاصلے دل ہوگا بابِ حسن وا ہوگا سہارا دے گی رحمت آپ کی خود اپنے مجرم کو گناہوں کے تصور سے جہاں دل ڈوبتا ہوگا برستی ہوں گی آنکھیں جرمِ عصیاں کے تصور سے زباں خاموش ہوگی […]