اے از شعاع روئے تو خورشید تاباں را ضیا

آنی کہ ہستی را شرف بالا تراز عرش عُلا گرچہ بصورت آمدی بعد از ہمہ پیغمبراں اما بمعنی بودہ سر خیل جملہ انبیائ ہر گز نخواندی یک روق خلقے گرفت از تو اسبق انگشت مہ راکرد شق اے خواجہ معجز نما یارانِ تو چار آمدند پاکیزہ کردار آمدند گل ہائے بے خار آمدند از خویش […]

اے خوشا آندم کہ گردم مست بایت یا رسول

میروم از خویش ومی آیم بہ سویت یا رسول درکنار قطرہ حیرانم چساں گنجد محیط کرد چوں جا در دل من آرزویت یا رسول کیستی کز ذرہ تا انجم ہمہ محو تواند ہر کرا چشمے بود باشد بہ سویت یا رسول بسکہ مشتاق حدیث دل فریبت بودہ ام بشتوم از پردہ دل گفتگویت یا رسول […]

اے کاش! تصور میں مدینے کی گلی ہو

اور یادِ محمد بھی مرے دل میں بسی ہو دو سوزِ بلال آقا ملے دردِ رضا سا سرکار عطا عشق اویس قرنی ہو اے کاش! میں بن جاؤں مدینے کا مسافر پھر روتی ہوئی طیبہ کو بارات چلی ہو پھر رحمت باری سے چلوں سوئے مدینہ اے کاش! مقدّر سے میسّر وہ گھڑی ہو جب […]

بزم توحید سے تبلیغ کا نامہ آیا

کوئی پہنے ہوئے قرآن کا جامہ آیا جس نے اسلام کے پچیدہ مطالب کھولے سر پہ باندھے وہ فضیلت کا عمامہ آیا چشم و مژگاں سے لکھے اس نے ہزاروں دفتر جس کے مکتب میں دولت آئی نہ خامہ آیا شور تکبیر سے صحرائے عرب کانپ اٹھا اس جلالت سے سوئے اہل تہامہ آیا کپکپی […]

جانبِ طیبہ سفر کی جب خیر پاتا ہے دل

اپنی خوش بختی پہ کیا کیا ناز فرماتا ہے دل بارگاہِ مصطفیٰ میں پیش کرنے کو سلام ماہی بے آب کی صورت مچل جاتا ہے دل آئینہ ہو کر غمِ عشقِ شہِ کونین کا رنگ وبوئے زندگی کی روح کہلاتا ہے دل لب پہ جب سجتی ہے میرے بزمِ ذکرِ مصطفیٰ خشک ہوجاتی ہیں آنکھیں […]

جب سے ہوا وہ گل چمن آرائے مدینہ

جبریل بنا بلبل شیدائے مدینہ سینہ ہے مرا روکش صحرائے مدینہ دل ہے جرس محمل لیلائے مدینہ واں کے در و دیوار مرے پیش نظر ہیں اندھیر ہو گر آنکھ سے چھپ جائے مدینہ ہر سنگ میں واں کے شررِ طور ہے پنہاں ہر خشت کو کہئے یدِ بیضائے مدینہ قسمت یہ دکھاتی ہے کہ […]

جبیں میری ہوسنگ در تمہارا یا رسول اللہ

یہی ارماں ہے جینے کا سہارا یا رسول اللہ دکھا دو اپنا چہرہ پیارا یا رسول اللہ خدا کا جیتے جی کرلوں نظارا یا رسول اللہ تمہی ہو بے سہاروں کا سہارا یا رسول اللہ تمہی کو ہر دکھی دل نے پکارا یا رسول اللہ ندامت ہے خطاوں پر مگر نازاں ہو قسمت پر مرے […]

ذرہ کرے خورشید کی مدحت تو عجب کیا

پائیں مرے لب نعت کی رفعت تو عجب کیا یہ چاند یہ سورج یہ ستارے تہہِ افلاک کرتے ہیں طوافِ درِ رحمت تو عجب کیا جب قبر میں پُرسش کے لیے آئیں نکیرین مل جائے بس اک نعت کی مہلت تو عجب کیا جس دم وہ غلاموں کو پکاریں سرِ محشر مجھ پر بھی رہے […]