ابرِ کرم ہے جن کی ذات، وجۂ سکوں ہے جن کا نام
ان پر نثار جان ودل ان پر درود اور سلام ان کے نظر کے فیض سے خار بھی پھول ہوگئے ان کے قدم سے مل گیا خاک کو عرش کا مقام
معلیٰ
ان پر نثار جان ودل ان پر درود اور سلام ان کے نظر کے فیض سے خار بھی پھول ہوگئے ان کے قدم سے مل گیا خاک کو عرش کا مقام
اک ذہنِ نارسا لئے میں کیا کہوں تجھے فضل و عطا کہوں تجھے جود و سخا کہوں رحمت جہانِ کُن کی سراپا کہوں تجھے تیری مثال ہی نہیں کیسے مثال دوں ہر وصف ہر کمال میں یکتا کہوں تجھے تیرے کرم سے عیب ہیں سب کے چھپے ہوئے بے سایہ ستر پوشِ زمانہ کہوں تجھے […]
دل جھکایا ہے جہاں پر وہیں سر رکھا ہے قلبِ مضطر کا سکوں دیدۂ بے چین کا چین درِ آقا کے سوا اور کدھر رکھا ہے میری قسمت ہے کہ مولا نے مری قسمت میں بارہا شہرِ مدینہ کا سفر رکھا ہے شرطِ بخشش درِ سرکار پہ جانا ٹہرا یہیں خالق نے دعاؤں میں اثر […]
اپنی تقدیر بنانے کے لئے آیا ہوں وہی رودادِ غمِ عشق سنیں گے میری اپنی روداد سنانے کے لئے آیا ہوں ہے یقیں تشنگیٔ شوق بجھے گی تو یہیں پیاس میں دل کی بجھانے کے لئے آیا ہوں سربلندی مجھے ملنی ہے یہیں ملنی ہے اپنی پیشانی جُھکانے کے لئے آیا ہوں ضبط کرنے کی […]
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق خاکِ قتیلِ عشق ہو خاکِ دیارِ عشق دلکش ہیں کس قدر یہ حدود و حصارِ عشق عاشق ہے اور کیف و سرور و خمارِ عشق قربان فرطِ شوقِ تصور پہ جائیے ہر دم نگاہِ عشق میں ہے سبزہ زارِ عشق "در راہِ عشق مرحلہء قرب و بعد نیست” […]
بنے گی سُرمہ اڑے گی جو رہگزار کی ریت اُٹھی جو مکہ سے رحمت چلی مدینہ تک نسیمِ بادِ بہاری تھی شہسوار کی ریت قدومِ پاکِ نبوّت کی برکتیں ہیں عیاں چمک رہی ہے جو اس طرح کوہسار کی ریت ہے مارمیت سے ثابت یہ دستِ قدرت ہے عدو کی لے گئی بینائی دستِ یار […]
یہ جان اگر جائے سرکار کے قدموں میں اک بار رکھوں اُن کے قدموں میں یہ سر اپنا پھر عمر گذر جائے سرکار کے قدموں میں یہ کیفؔ کی حسرت ہے ڈھل جائے وہ خوشبو میں اور جا کے بکھر جائے سرکار کے قدموں میں
مسیحا آپ ہو جائیں تو ہم بیمار اچھے ہیں اگر نیرنگیٔ دنیا سے ہیں بیزار اچھے ہیں درِ آقا پہ زیرِ سایۂ دیوار اچھے ہیں ذلیل و خوار جو تھے آج عزّت دار اچھے ہیں بُرے بھی آپ کے ہو کر مرے سرکار اچھے ہیں نظر سے چومتا پھرتا ہوں ہر سو خاکِ طیبہ کو […]
سامنے آنکھ کے کب گنبدِ خضرا ہوگا دیکھئے ملتا ہے کب اذنِ حضوری مجھ کو جانے کب میرا سفرِ جانب بطحا ہوگا جو بھی سرکار کے دامن سے ہوا وابستہ وہ کبھی محفلِ دنیا میں نہ رسوا ہوگا کب میں دیکھوں گا وہ روضے کی سنہری جالی کب مقدّر میں مرے وقت سنہرا ہوگا محفلِ […]
یہ تو کرم ہے انُ کا ورنہ مجھ میں تو ایسی بات نہیں تو بھی وہیں پہ جا جس در پر سب کی بگڑی بنتی ہے ایک تری تقدیر بنانا ان کیلئے کچھ بات نہیں ذکرِ نبی میں جو دن گزرے وہ دن سب سے بہتر ہیں یادِ نبی میں جو رات گزرے اس سے […]