جو سب سے پوشیدہ رہ کے سب کو لُبھا رہا ہے
وہی تو ہے جو نظامِ ہستی چلا رہا ہے جو خیر و شر ہیں اسی نے تخلیق کی ہے اُن کی وہ ابنِ آدم کو اِس طرح آزما رہا ہے جہاں کی نیرنگیوں میں رکھ کر کشش بلا کی پھر اپنے بندے کو اپنی جانب بلا رہا ہے اسی سے دل اضطراب میں بھی سکون […]