وہاں مصطفی کو بلایا گیا

جہاں اور کوئی نہ آیا گیا مرے دل کی خوش بختیاں دیکھیے اسے نعت سے جگمگایا گیا بصارت کو معراج حاصل ہوئی نبی جی کا روضہ دکھایا گیا دو عالم کے والی کے دربار میں غریبوں کا رتبہ بڑھایا گیا ۔ مرا اس وسیلے پہ ایمان ہے مجھے ہر غمی سے بچایا گیا ۔ جہاں […]

کالی کملی والے

کالی کملی والے اے شاہِ شب اسریٰ کونین کے رکھوالے دربار، الگ تیرا جبریل ترا خادم، محتاج ہے جگ تیرا بگڑی کو سنواریں گے دکھ درد کے عالم میں تجھ کو ہی پکاریں گے کیوں اور کسی گھر سے جو کچھ ہمیں ملنا ہے ملنا ہے ترے در سے چوکھٹ تری عالی ہے کچھ بھیگ […]

کس کی آمد ہے یہ کیسی چمن آرائی ہے

ہر طرف پھول مہکتے ہیں، بہار آئی ہے عطر افشاں جو مدینے سے ہوا آئی ہے زُلفِ محبوب یقیناً کہیں لہرائی ہے دل جو مضطر ہے مدینے کی زیارت کے لیے آنکھ دیدارِ محمد کی تمنائی ہے ان کے بیماروں میں عیسیٰ بھی نظر آتے ہیں واہ کیا سرورِ عالم کی مسیحائی ہے قابِ قوسین […]

ہم زمانے میں پھرے ، دل کو حرم میں رکھا

حرمِ پاک کو اِس دیدۂ نم میں رکھا جو بھی لکھا ہے وہ انوار صفت لکھا ہے اسمِ احمد نے یہ اعجاز قلم میں رکھا دل کو دُنیا کے جھمیلوں میں اُلجھنے نہ دِیا اِس کو بس جستجوئے باغِ ارم میں رکھا دوش پرلے کے صبا مُجھ کو مدینے پہنچی جذبۂ شوق کوہر ایک قدم […]

ہو کشتِ دل میں مرے لالہ زار کا موسم

جو دیکھ لوں میں نبی کے دیار کا موسم خزاں رسیدہ چمن زارِ ہست تھا پہلے لیے وہ آئے ہیں باغ و بہار کا موسم چمکنے والا ہے آئینئہ جمالِ رسول سنا ہے آیا گلوں کے سنگھار کا موسم نبی ہوئے جو قدم رنجہ باغِ عالم میں رخِ حیات نے دیکھا نکھار کا موسم کھلیں […]

ہونٹوں پہ تو رہتا ہے سدا نامِ محمد

مانے ہیں کبھی آپ نے احکامِ محمد پتّھر کی عمارت پہ تو ہوتا ہے چراغاں دنیا میں روا کیجیے پیغامِ محمد قرآن سے پائیں گے جو ہم راہِ ہدایت سچ پوچھو یہی اصل ہے اسلامِ محمد سیرت سے جو سیکھے گا یہاں آپ کی مولا پھر خود ہی وہ پھیلائے گا پیغامِ محمد اُمّت کی […]

ہوں میری باغ و بہار آنکھیں

جو دیکھیں ان کا دیار آنکھیں حضور! اذنِ حضوری بخشیں کہ رہتی ہیں اشکبار آنکھیں ہوا ہے طیبہ سے دور رہ کر فگار دل، خوں فشار آنکھیں برائے دیدِ رخِ منوّر ہماری ہیں بے قرار آنکھیں قریب آنے لگا ہے طیبہ دوانو! کرلو سنگھار آنکھیں حضور خوابوں میں اب تو آئیں ہوئیں ہیں مثلِ مزار […]

ہے نرالے جوش پر کچھ آج فیضانِ رسول

جھولیاں بھر بھر کر لے جائیں گدایانِ رسول ہیں رموزِ کن فکان آئیںہ جن پر مو بمو مرحبا کیا ہی حقیقت بیں ہیں چشمانِ رسول ہیں ید اللہ فوق ایدیھم کے گجرے ہاتھ میں ہیں مریدانِ خدا سارے مریدانِ رسول روزِ محشر آفتاب حشر ہو جب شعلہ بار سایہ افگن ہو سیہ کاروں پہ دامانِ […]