رنج و غم زیست کے جس وقت ستاتے ہیں مجھے

ایسے لگتا ہے وہ دامن میں چھُپاتے ہیں مجھے وہ مری اپنی بھی پہچان بھُلا دیتے ہیں یاد آتے ہیں تو اِس طرح سے آتے ہیں مجھے کیا تصور ہے کہ میخانۂ عرفاں ہے کھلا میرے آقا ہیں کہ نظروں سے پلاتے ہیں مجھے اُن کی نسبت ہے کہاں مجھ سا گنہ گار کہاں اپنے […]

روضہ ہےمیرے سامنے گھر بھول گیاہوں

روضہ ہے میرے سامنے گھر بھول گیا ہوں تھا دل پہ جو دنیا كا اثر بھول گیا ہوں اے گنبدِ خضرا میں تری چھاؤں كے قرباں رستے كا ہر اک سبز شجر بھول گیا ہوں اک ایسا سكوں شہرِ مدینہ میں ملا ہے میں سارا جہاں سارے نگر بھول گیا ہوں اس ساعتِ خوش بخت […]

زباں پر ہے‘ دلوں میں ہے‘ مکاں سے لامکاں تک ہے

زباں پر ہے، دلوں میں ہے، مکاں سے لامکاں تک ہے اُنہی کے نام کا چرچا زمیں سے آسماں تک ہے کرم کا اُن کے جاری سلسلہ بابِ جناں تک ہے غلاموں کا یہ سرمایہ یہاں سے ہے وہاں تک ہے حرم سے مسجدِ اقصیٰ وہاں سے تا بہ اَو اَدنیٰ ظہورِ شانِ محبوبی کہاں […]

شہرِ طیبہ کی ٹھنڈی ہوا چاہئے

یہ جو مل جائے پھر اور کیا چاہئے پھر مدینہ کی جانب رواں ہیں قدم قلبِ بیمار کو پھر دوا چاہئے رات دن اُن کا روضہ نگاہوں میں ہو رات دن یہ سہانی فضا چاہئے بس یہیں پر جیوں بس یہیں پر مروں آپ کے در پہ تھوڑی سی جا چاہئے شکر ہے عشقِ سرور […]

عاالم ہوا یہ شمعِ رسالت کے نور سے

پروانے آ رہے ہیں بڑی دور دور سے کوثر سے واسطہ نہ شرابِ طہور سے ہم کو غرض ہے مستی جامِ حضور سے شانِ حبیب حق کی وضاحت ہے صاف صاف قرآں کی آیتوں سے سطورِ زبور سے احسان ترے کہاں تک اٹھائیں گے اے صبا اب حالِ دل زبانی کہیں گے حضور سے عشقِ […]

فلک میں حدّ ِ نظر لا اِلہ الہ اللہ

فلک میں حدِّ نظر لا اِلہ الہ اللہ نجوم و شمس و قمر لا اِلہ الہ اللہ بقا کی راہ ہے معراج ہے یہ اس کے لیے پڑھے جو شام و سحر لا الہ الہ اللہ نظر کو چاہیے وُسعت مشاہدے کے لیے جِدھر بھی دیکھو اُدھر لا اِلہ الہ اللہ ہر ایک ذرّے سے […]

قافلے سارے مدینے کو چلے جاتے ہیں

ہم رہِ عشق میں صدمات سہے جاتے ہیں ہم کو بھی روضئہ اقدس پہ بُلاؤ شاہا ہم شبِ ہجر میں جل جل کے بجھے جاتے ہیں کہکشاں نے تری راہوں کو سجا رکھا ہے چاند تارے ترے قدموں میں بچھے جاتے ہیں تیرے گیسو پہ ہیں قربان گھٹائیں کالی دیکھ کر تجھ کو مہ و […]

لب پہ صلِ علیٰ کے ترانے اشک آنکھوں میں آئے ہوئے ہیں

یہ ہوا یہ فضا کہہ رہی ہے آقا تشریف لائے ہوئے ہیں جن کی خاطر یہ عالم بنایا اپنے گھر جن کو رب نے بلایا اے حلیمہ یہ تیرا مقدر وہ ترے گھر میں آئے ہوئے ہیں کیسے کہہ دوں وہ حاضر نہیں ہیں کیسے مانوں یہ ممکن نہیں ہے اس سے بڑھ کر ثبوت […]

محمد مصطفیٰ سالارِ دیں ہیں

محمد مصطفیٰ انوارِ دیں ہیں وہ فضلنا علیٰ بعضِ کی تفسیر وہ اکمل، مستند معیار دیں ہیں ہے ان کا نام انوارِ ہدایت یقیناً مصطفیٰ سرکارِ دیں ہیں محمد دین کے جسمِ مطہرّ صحابہ آپ کے رُخسارِ دیں ہیں ہے ان کے فضل و حکمت کا نتیجہ زمینِ دہر پر گلزارِ دیں ہیں جنہیں دستِ […]

محمد مصطفیٰ کا آستاں ہے

مدینے میں بہار بے خزاں ہے زمیں جیسے سمٹ کر رہ گئی ہے مرے سر پر مکمل آسماں ہے محمد مصطفیٰ کا نامِ نامی سماعت زا ہے اور تنویرِ جاں ہے بہ جز یزداں، محمد کے علاوہ کوئی رحمت میں اتنا بے کراں ہے؟ اولو الابصار اس پر متفق ہیں محمد ہی تو سرِ کُن […]