رنج و غم زیست کے جس وقت ستاتے ہیں مجھے
ایسے لگتا ہے وہ دامن میں چھُپاتے ہیں مجھے وہ مری اپنی بھی پہچان بھُلا دیتے ہیں یاد آتے ہیں تو اِس طرح سے آتے ہیں مجھے کیا تصور ہے کہ میخانۂ عرفاں ہے کھلا میرے آقا ہیں کہ نظروں سے پلاتے ہیں مجھے اُن کی نسبت ہے کہاں مجھ سا گنہ گار کہاں اپنے […]