مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں

کبوتر نعت پڑھتے ہیں نظارے داد دیتے ہیں میں پانی پر جو انگلی سے نبی کا نام لکھتا ہوں مچل کر مجھ کو دریا کے کنارے داد دیتے ہیں یہ کس نے لحن داؤدی میں چھیڑی نعت آقا کی ہوائیں رقص میں ہیں چاند تارے داد دیتے ہیں نبی کا ذکر کرنے کا مزا ہی […]

میری آنکھوں سے وہ آنسو جدا ہونے نہیں دیتا

مجھے نا معتبر ، میرا خدا ہونے نہیں دیتا مری فردِ عمل دھو کر مِری اشکِ ندامت سے میری لغزش کو وہ میری خطا ہونے نہیں دیتا عتاب اس کا میرے کردار پر نازل نہیں ہوتا کہ وہ توّاب ہے محشر بپا ہونے نہیں دیتا عطا کچھ اس طرح کرتا ہے وہ افکار کی دولت […]

میرے لیے ہر گلشنِ رنگیں سے بھلی ہے

کانٹے کی وہ اک نوک جو طیبہ میں پلی ہے جو ان کی گلی ہے وہی دراصل ہے جنت دراصل جو جنت ہے وہی ان کی گلی ہے اے صل علی صاحب معراج کی سیرت جو بات ہے قرآن کے سانچے میں ڈھلی ہے شاید درِ احمد سے صبا لائی ہو اس کو چہرے پہ […]

میں اپنے شام و سحَر تیرے نام کرتا ہوں

کہ وقت کوئی ہو تُجھ سے کلام کرتا ہوں تِرے حُروف کی رَو رہنمائی کرتی ہے میں زندگی کا سفر یُوں تمام کرتا ہوں تِرے جلو میں حدیں ٹوٹ پُھوٹ جاتی ہیں اَزَل اَبَد سے اُدھر بھی خرام کرتا ہوں تِری نوا میں ہے فردوسِ گوش کی تفسیر تِری حدیث سے حاصلِ دوام کرتا ہوں […]

میں تو پنجتن کا غلام ہوں

مجھے عشق ہے تو خدا سے ہے مجھے عشق ہے تو رسول سے میرے منہ سے آئے مہک سدا جو میں نام لوں تیرا بھول سے مجھے عشق آلِ نبی سے ہے مجھے عشق ہے تو بتولؓ سے مجھے عشق ان کی گلی سے ہے مجھے عشق ان کے ہے پھول سے مجھے عشق سرّ […]

نبی کے عشق کا دل میں چراغ لے کے چلے

رہِ بہشت کا مثبت سراغ لے کے چلے در اُن کا منبعِ بارانِ لطف و رحمت ہے کرم کی آس پہ ہم بھی ایاغ لے کے چلے حضور چاہیں تو ہر داغ صاف ہو جائے ہم اپنا دامنِ دل داغ داغ لے کے چلے طلسمِ گنبدِ خضریٰ کا کیا اثر کہئے درونِ روح بھی اک […]

نہیں ہے کام اب مجھ کو کسی سے

میں وابستہ ہوں دامانِ نبی سے وہ میرے ہیں میں دیوانہ ہوں اُن کا یہ کہتا پھر رہا ہوں میں سبھی سے مری نسبت ہی سرمایہ ہے میرا یہی پایا ہے میں نے زندگی سے مئے عشقِ نبی سے مست یوں ہوں نہ نکلوں عمر بھر اس بے خودی سے وہی کردینگے کشتی پار میری […]

پہنچے ہیں بابِ خلد پہ کوئے بتاں سے ہم

نازاں ہیں آ گئے ہیں کہاں پر کہاں سے ہم وابستہ دل سے ہو گئے اس آستاں سے ہم جائیں تو کیسے لوٹ کے جائیں یہاں سے ہم تسکینِ قلب راہِ مدینہ میں یوں ملی گزرا کئے ہوں جیسے کسی کہکشاں سے ہم مت پوچھئے کہ اُن کی غلامی میں کیا ملا آزاد ہوگئے ہیں […]

کلامِ احمدِ مرسل سمندر ہے لطافت کا

نزاکت کا، نفاست کا فصاحت کا بلاغت کا شہِ کونین کا دل عہدِ طفلی ہی سے تھا مخزن ریاضت کا، عبادت کا، محبت کا، قناعت کا خدا نے سب سے پہلے کر رکھا تھا خاتمہ شہ پر نبوت کا، رسالت کا، ہدایت کا، شفاعت کا نبی اُمّی نے سکھلایا سبھوں کو قاعدہ آ کر اطاعت […]