مقدر جگمگانے کو نبی کا نام کافی ہے

مری قسمت جگانے کو نبی کا نام کافی ہے نہ تحت و تاج کی حاجت ، نہ مال و زر کی چاہت ہے مرے سارے گھرانے کو نبی کا نام کافی ہے محمد نام لینے سے سکونِ قلب ملتا ہے دلِ مضطر بہلانے کو نبی کا نام کافی ہے متاعِ کل کیا قرباں ، کہا […]

نہ مہر و ماہ نہ ہی کہکشاں سے نسبت ہے

ہمیں تو آپ کے پا کے نشاں سے نسبت ہے جہان کن فیکوں کا وجود آپ سے ہے نبی کے قدموں کی سارے جہاں سے نسبت ہے کہاں میں اور کہاں نعت پاک کی عظمت میں ذرہ ہوں جی! مجھے آسماں سے نسبت ہے غرض ہے کیا ہمیں دنیا کے تاجداروں سے ہمیں تو آپ […]

وہ اعلی و اولی ، ہمارے محمد

وہ والی و مولا ہمارے محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم وہ احمد، وہ حامد، وہ ماحی، وہ محمود وہ سرور ، وہ ماوی، ہمارے محمد صل اللہ علیہ و آلہ و سلم وہ ہادی و مہدی ، وہ داعی و امی ہمارے سہارا ، ہمارے محمد صل اللہ علیہ و آلہ و […]

پنچھی بن كر سانجھ سویرے طیبہ نگریاجاؤں

پنچھی بن كر سانجھ سویرے طیبہ نگریا جاؤں اُڑتے اُڑتے یادِ نبی میں اپنے پَر پھیلاؤں نور كے تَڑكے حمد كے میٹھے میٹھے بول سناؤں كومل كومل سُروں میں چہكوں، نعت نبی كی گاؤں گنبدِ سبز كےجلوے ایسے جیسے نور كے دھارے كردیں دُور اندھیرا دل كا نورانی لشكارے پیارے نبی كا دیس ہے پیارا […]

ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں

نعت کے شعر کہیں اور سے آتے ہیں میاں رنگ مضموں تو ہے منت کش جبریل کہ ہم سادے کاغذ پہ لکیریں سی بناتے ہیں میاں تم جو چاہو اسے معراج کہو تو کہہ لو میرے آقا تو وہاں سیر کو جاتے ہیں میاں ہم کو پاپوش مقدس کی زیارت ہے بہت ان کے نعلین […]

یا رب خلوصِ شوق کو اتنی رسائی دے

دل کے حرم میں شہرِ مدینہ دکھائی دے تنگ آ گئی ہے قیدِ عناصر سے زندگی زنجیر صبح و شام سے مجھ کو رہائی دے ہر بات میں ہوں نامِ محمد کی تابش ہر سانس میں پیامِ محمد سنائی دے مولائے کائنات کی چشمِ کرم تو ہے جو بیکسوں کو طاقتِ خیبر کشائی دے صرف […]

یہ بالکل حقیقت خدا کی قسم ہے

محمد کی آمد خدا کا کرم ہے زمیں پر ہے زینت فلک پر چمک ہے کہ بزم جہاں میں وہ خیر الامم ہے جسے ان کے در کی غلامی ملی ہے یہ سارا جہاں اس کے زیر قدم ہے مقام نبی ہے کہیں اس سے بڑھ کر نظر میں غلاموں کی لوح و قلم ہے […]

یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ

یہ دنیا سمندر ، كنارا مدینہ خدا كے كرم كا ، اشارہ مدینہ معنبر معنبر فضائیں یہاں كی معطّر معطّر ہے سارا مدینہ بہشتِ بریں كا جو پوچھا كسی نے تو بے ساختہ مَیں پكارا، مدینہ عطا ہی عطا ہے سخا ہی سخا ہے خطا كار كا ہے سہارا مدینہ كبھی بھول كر بھی نہ […]

آمد ہے آج عرش بریں پر حضور کی

افلاک نور کے ہیں، زمینیں ہیں نور کی اللہ کے حضور طلب ہے حضور کی خلوت میں نور سے ہے ملا قات نور کی اس آب و تاب سے شب معراج آئی ہے گویا کھلی ہوئی کوئی چوٹی ہے حور کی کیا انتظار جلوہ ذات احد کو ہے کیا لو لگی ہے ان کی طرف […]

آنکھیں سجود میں ہیں تو دِل کا قیام ہے

حیران ہیں کہاں پہ یہ اپنا قیام ہے اشکوں کے ساتھ ساتھ ہے تاروں کا قافلہ اور نعت کے سفر میں مدینہ قیام ہے دِل سے نکال جتنے بھی وہم و گمان ہیں اِس راہ میں یقین ہی پہلا قیام ہے اب اپنی زِندگی ہے مسلسل سفر کا نام منزل قیام ہے نہ یہ رستہ […]