ذکرِصلّ علیٰ ہے زباں پر ‘ کیسی خوشبو فضا میں رچی ہے

ذکرِ صلّ علیٰ ہے زباں پر ‘ کیسی خوشبو فضا میں رچی ہے سارا ماحول نکھرا ہوا ہے اور ہواؤں میں بھی تازگی ہے اتنا میٹھا ہے اسمِ محمد اس کی شیرینی کیونکر بیاں ہو ہونٹ لیتے ہیں آپس میں بوسے اس قدر نام میں چاشنی ہے تھا زمانے میں ظلمت کا ڈیرا ‘ آپ […]

رخ پہ رحمت کا جھومر سجائے کملی والے کی محفل سجی ہے

مجھکو محسوس یہ وہ رہا ہے انکی محفل میں جلوہ گری ہے نعت حسنِ شبہ دوسرا ہے نعت ہی ذکرِ ربّ العلیٰ ہے نعت لکھنا میری زندگی ہے نعت پڑھنا میری زندگی ہے عاشقو! تم اگر چاہتے ہو، ہو زیارت درِ مصطفیٰ کی دل کی جانب نگاہیں جھکا لو سامنے مصطفیٰ کی گلی ہے مجھکو […]

رہتے ہیں تصور میں وہ دن رات مسلسل

ملتی ہے مدینے سے یہ خیرات مسلسل آفاق میں ہوتا ہے درودوں کا وظیفہ جاتی ہے غلاموں کی یہ سوغات مسلسل ہر لحظہ رہے وردِ زباں اسمِ محمد رہتے ہیں تلاطم میں یہ جذبات مسلسل رہتا ہوں تخیّل میں شب و روز مدینہ ملتے ہیں مجھے قرب کے لمحات مسلسل الفقر کو ” فخری” جو […]

سوچتے سوچتے جب سوچ اُدھر جاتی ہے

روشنی روشنی ہر سمت بکھر جاتی ہے دھیان سے جاتا ہے غم بے سروسامانی کا جب مدینے کی طرف میری نظر جاتی ہے اُڑتے اُڑتے ہی کبوتر کی طرح آخرِکار سبز گنبد پہ مری آنکھ ٹھہر جاتی ہے میں گذرتا ، تو وہاں جاں سے گذرتا چُپ چاپ یہ ہَوَا کیسے مدینے سے گذر جاتی […]

شہرطیبہ کے دروبام سے باندھے ہوئے رکھ

شہر طیبہ کے در و بام سے باندھے ہوئے رکھ میں ہوں جیسام جھے اس نام سے باندھے ہوئے رکھ میں بھی ہوں اے مرے آقا ترا زندانی عشق اپنے قیدی کو اسی دام سے باندھے ہوئے رکھ مری آنکھوں سے برستے ہوئے ان اشکوں کو دل میں برپا کسی کہرام سے باندھے ہوئے رکھ […]

طیبہ کی اُس ریت پہ پھولوں کے مسکن قربان

اُس پہ مری سرسبز زمینوں کے دامن قربان اُس وادی پہ کاغان اور کالام کا حُسن نثار اُس پہ مری اور شنگریلا کے سُندر بَن قربان اُس پہ شجاع آباد کے اور ملتان کے باغ فدا اُس پہ چَوّا سَیدن شاہ کے سارے چمن قربان میرے وطن میں دریاؤں اور نہروں کا اِک جال اُس […]

قلم نے لوح پر نام محمد جب لکھا ہوگا

خوشی سے بڑھ کے فورا شاخِ طوبی بن گیا ہوگا زمیں پر جب محمد مصطفیٰ پیدا ہوا ہوگا سرِ چرخِ بریں، سوئے زمیں اس دن جھکا ہوگا جو مقبول محمد ہے وہ مقبول خدا ہوگا ملا ہوگا محمد سے احد سے کب جدا ہو گا نبی کا تذکرہ جب اپنی محفل میں ہوا ہوگا زبان […]

منتظر تیرے سدا عقدہ کُشا رکھتے ہیں

دلِ زندہ کے لئے حق سے وِلا رکھتے ہیں گُھٹ کے مر جاتے ترا غم جو نہیں ہوتا نصیب سانس لینے کے لئے تازہ ہوا رکھتے ہیں لاشِ قاسم پہ یہ شبیر کی حالت دیکھی جسم کے ٹکڑوں کو گٹھری میں اٹھا رکھتے ہیں درِ خیمہ پہ کھڑے سوچ رہے ہیں سرور ماں نے گر […]

مَیں مدینے جو پہنچی تو دل میں مرے روشنی ہو گئی

روح مردہ تھی لیکن مجھے یوں لگا زندگی ہو گئی پھر سحابِ کرم سے خزاؤں میں بھی پھول کھلنے لگے دیکھ کر سبز گنبد بہاروں سے بس دوستی ہو گئی ہے مرے واسطے تو یہ روشن مدینہ ہی روشن جہاں چاند یثرب سے اُبھرا تو چاروں طرف چاندنی ہو گئی آپ علم و محبت کا […]

کریم ! تیرے کرم کا چرچا نگر نگر ہے گلی گلی ہے

ہے اپنا دامن عمل سے خالی ‘ تِرے کرم پر نظر لگی ہے جو تیرے در کی ملے غلامی ‘ زمانے بھر کی ہے نیک نامی یہی عبادت ہے در حقیقت ‘ یہی حقیقت میں بندگی ہے نہ ملتا مجھ کو ترا گھرانا تو کون سنتا مِرا فسانہ ’’رہے سلامت تمہاری نسبت ‘ مِرا تو […]