کوئی گل باقی رہے گا نے چمن رہ جائے گا

پر رسول اللہ کا دین حسن رہ جائے گا ہم صفیر و باغ میں ہے کوئی دم کا چہچہا بلبلیں اڑ جائیں گی سونا چمن رہ جائے گا اطلس و کمخواب کی پوشاک پر نازاں ہو تم اس تن بے جان پر خاکی کفن رہ جائے گا نام شاہان جہاں مٹ جائیں گے لیکن یہاں […]

گو ترقی پہ جمالِ مہِ کامل ہووے

منہ تو دیکھو کہ ترے منہ کے مقابل ہووے ماہ کیا، سامنے گر آپ کے خورشید آئے دعوٰیِ نور سے خجلت اسے حاصل ہووے کیا یہ خورشید کہ خورشیدِ قیامت ہو اگر روبرو آپ کے رہنا اسے مشکل ہووے شانِ اجلال پہ آجائیں اگر وہ رخسار کس کو طاقت ہے کہ اس وقت مقابل ہووے […]

ہم شہر مدینہ کی ہوا چھوڑ چلے ہیں

اس جنتِ طیبہ کا مزا چھوڑ چلے ہیں کس شوق سے آئے تھے مدینے کے مسافر روتے ہوئے طیبہ کی فضا چھوڑ چلے ہیں کب جھیل سکے گا یہ مدینے کی جدائی دل اب ِترے در پر ہی پڑا چھوڑ چلے ہیں مشکل ہے ‘ جلیل ! اُن کے درِ پاک سے جانا پھر لوٹ […]

ہو کرم کی نظر اس گنہگار پر ، ہا تھ باندھے کھڑا ہے یہ در پر شہا

ہو کرم کی نظر اس گنہگار پر ، ہاتھ باندھے کھڑا ہے یہ در پر شہا کچھ نواسوں کا صدقہ عطا کیجئے ، اپنا دامن یہ لے جائے بھر کر شہا آپ کے در پہ آتے ہیں شاہ و گدا ، لوٹ کر در سے کوئی نہ خالی گیا جس نے مانگا ہے جو بھی […]

یا الہی حشر میں خیرالورٰی کا ساتھ ہو

رحمتِ عالم جنابِ مصطفٰے کا ساتھ ہو یا الہی ہے یہی دن رات میری التجا روزِ محشر شافعِ روزِ جزا کا ساتھ ہو یا الہی جب قریبِ نیزہ آئے آفتاب اس سزاوارِ خطابِ والضحٰے کا ساتھ ہو یا الہی حشر میں نیچے لوائے حمد کے سیدِ سادات فخرِ انبیا کا ساتھ ہو یا الہی پُل […]

یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا

زہرہ پاک کے صدقے ہم کو طیبہ میں بلانا سج گئی ہے میلاد کی محفل کیا ہے خوب نظارہ کیف ومستی میں ڈوبا ہے دیکھو عالم سارا ڈھونڈھ رہی ہے آپ کی رحمت بخشش کا بہانا بے مایہ ہے لیکن دو جگ پر ہے آپکا سایہ عرشِ مُعلّی بنا محلہ دید کو رب نے بلایا […]

یارو! مجھے حضور کی قربت میں لے چلو

مجھ غم زدہ کو قریہء راحت میں لے چلو میں جل رہا ہوں کب سے یہاں غم کی دھوپ میں اب تو مجھے بھی سایہء رحمت میں لے چلو عصیاں کے اس مریض کا کوئی نہیں علاج چارو گرو! حضور کی صحبت میں لے چلو خوشبوئے مصطفی کی میں برکت سمیٹ لوں مجھ کو حرا […]

یہ جو ذرّے نے چمک آپ سے لے رکھی ہے

پھُول نے اپنی مہک آپ سے لے رکھی ہے اِس کی آواز فلک تا بہ فلک سنتا ہُوں یہ جو مٹّی نے کھنک آپ سے لے رکھی ہے آپ کے دم سے ہی قائم ہیں سبھی رنگِ زمیں آسماں نے بھی دھنک آپ سے لے رکھی ہے ورنہ ہو جاتے یہ برباد، اُجڑ جانے تھے […]

اب کا منشا ہے کہ پھیلے شہِ ابرار کی بات

ساری دنیا میں چلے اسوۂ سرکار کی بات نعتِ سرکار لکھوں اور عمل روشن ہو مدحِ آقا سے بنے سیرت و کردار کی بات ذکرِ اصحاب گرامی بھی ہے مدحت ان کی نجم کی بات بھی ہے ماہ کے انوار کی بات کاش اخلاص بھی حاصل ہو کبھی لفظوں کو دل پاکیزہ کرے عشق کے […]

حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو

حامل جلوہء ازل، پیکر نور ذات تو شان پیمبری سے ہے سرور کائنات تو فیض عمیم سے ترے قلب و نظر کی وسعتیں مومن حق پرست کا حوصلہء نجات تو تیرے عمل کے درس سے گرم ہے خون ہر بشر حسن نمود زندگی رنگ رخ حیات تو عقدہ کشائے این و آں ، نور فزائے […]