کہاں میں کہاں مدحِ ذاتِ گرامی

نہ سعدی نہ رومی نہ قدسی نہ جامی پسینے پسینے ہوا جا رہا ہوں کہاں یہ زباں اور کہاں نامِ نامی سلام اس شہنشاہ ِہر دو سرا پر درود اس امامِ صفِ انبیاء پر پیامی تو بے شک سبھی محترم ہیں مگر اللہ اللہ خصوصی پیامی فلک سے زمیں تک ہے جشنِ چراغاں کہ تشریف […]

آج اشک میرے نعت سنائیں تو عجب کیا

سن کر وہ مجھے پاس بلائیں تو عجب کیا ان پر تو گنہگار کا سب حال کھلا ہے اس پر بھی وہ دامن میں چھپائیں تو عجب کیا منہ ڈھانپ کے رکھنا کہ گنہگار بہت ہوں میت کو میری دیکھنے آئیں تو عجب کیا اے جوش جنوں پاس ادب بزم ہے جن کی اس بزم […]

آنکھوں کو جسجتو ہے تو طیبہ نگر کی ہے

دل کو جو آرزو ہے تو خیرالبشر کی ہے پا لی ہے میں نے دین محمد کی سیدھی راہ الیاس کی تلاش نہ حاجت خضر کی ہے سرکار کی نظر ہے سبھی کچھ مرے لیے مجھ کو طلب نہ جاہ کی نا سیم و زر کی ہے جلوے بسے ہیں آنکھ میں ماہ حجاز کے […]

اس قدر کون محبّت کا صِلہ دیتا ہے

اُس کا بندہ ہوں جو بندے کو خدا دیتا ہے جب اُترتی ہے مِری رُوح میں عظمت اُس کی مجھ کو مسجوُد ملائک کا بنا دیتا ہے رہنمائی کے یہ تیور ہیں کہ مجھ میں بَس کر وہ مجھے میرے ہی جوہر کا پتا دیتا ہے اُس کے ارشاد سے مجھ پر مِرے اَسرار کُھلے […]

اللہ نے پہنچایا سرکار کے قدموں میں

کیا کیا نہ سکوں پایا سرکار کے قدموں میں دل کا تھا عجب عالم ان کے در اقدس پر سر پر تھا عجب سایہ سرکار کے قدموں میں وہ رب محمد کا تھا خاص کرم جس نے عالم نیا دیکھلایا سرکار کے قدموں میں جب سامنے جالی کے اشکوں کی سلامی دی سو شکر بجا […]

اکرامِ نبی، الطافِ خدا، سبحان اللہ ماشاء اللہ

لب پر ہے نبی کی نعت سدا سبحان اللہ ماشاء اللہ افلاک ہوں یا ہو فرشِ زمیں، سرکار کے ہیں سب زیر نگیں ہے زیرِ قدم عرش اعلیٰ سبحان اللہ ماشاء اللہ چاہو تو ازل کے بیمارو، طیبہ کے حسیں ذرّے چن لو ہے خاکِ مقدس خاکِ شفا سبحان اللہ ماشاء اللہ آقا کے توسّل […]

باد رحمت سنک سنک جائے

وادی جاں مہک مہک جائے جب چھڑے بات نطق حضرت کی غنچہ فن چٹک چٹک جائے ماہ طیبہ کا جب خیال آئے شب ہجراں چمک چمک جائے جب سمائے نظر میں وہ پیکر ذہن میرا دمک دمک جائے فیض چشم حضور کیا کہنا ساغر دل چھلک چھلک جائے نام پاک ان کا ہو لبوں سے […]

بارگاہ پاک میں پہنچے ثنا کرتے ہوئے

مدعا پایا ہے عرض مدعا کرتے ہوئے بے نیاز نعمت کون و مکاں ہوتے گئے کوچہ سلطان عالم میں صدا کرتے ہوئے دیدہ و دل میں گل جلوہ سمٹتے ہیں کہاں کب یہ صورت سامنے تھی التجا کرتے ہوئے کب مجھے تھی جاں کی پرواہ ، کب مجھے تھا سر کا ہوش سجدہ شکر ان […]

بنے ہیں دونوں جہاں شاہِ دوسرا کے لیے

سجی ہے محفل کونین مصطفیٰ کے لیے زباں کو اس لیے شیرینئی بیان ملی زباں ہے مدتِ محبوب کبریا کے لیے گدائے کوئے مدینہ ہوں کس کا منہ دیکھوں؟ اُنہی کی بخششیں کافی ہیں مجھ گدا کے لیے اُنہی کو لذت عشق نبی ملی، کہ جنہیں ازل میں چُن لیا قدرت نے اسِ عطا کے […]