تو جب آیا تو مٹی روح و بدن کی تفریق
تو نے انساں کے خیالوں میں لہو دوڑایا سمٹ آیا ترے اک حرف صداقت میں وہ راز فلسفوں نے جسے تاحدِ گماں الجھایا راحتِ جاں ! ترے خورشیدِ محبت کا طلوع دھوپ کے روپ میں ہے ابر کرم کا سایا اپنے رفیقوں کے لئے پتھر بھی ڈھوئے آپ نے اور دشمنوں کے حق میں مصروفِ […]