خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی

ہم فقیروں کو مدینے کی گلی اچھی لگی دور تھے تو زندگی بے رنگ تھی بے کیف تھی ان کے کوچے میں گئے تو زندگی اچھی لگی میں نہ جاؤں گا کہیں بھی در نبی کا چھوڑ کر مجھ کو کوئے مصطفی کی چاکری اچھی لگی یوں تو کہنے کو گزاری زندگی میں نے مگر […]

دلوں کے گلشن مہک رہے ہیں یہ کیف کیوں آج آ رہے ہیں

کچھ ایسا محسوس ہو رہا ہے حضور تشریف لا رہے ہیں نوازشوں پر نوازشیں ہیں عنایتوں پر عنایتیں ہیں نبی کی نعتیں سنا سنا کر ہم اپنی قسمت جگا رہے ہیں کہیں پہ رونق ہے مفلسوں کی کہیں پہ رونق ہے دل جلوں کی ہم کتنے خوش بخت ہیں جو نبی کی محفل سجا رہے […]

مُفلسِ زندگی اب نہ سمجھے کوئی مجھ کو عشقِ نبی اِس قدر مل گیا

جگمگائے نہ کیوں میرا عکسِ درُوں ایک پتھر کو آئینہ گر مل گیا جس کی رحمت سے تقدیرِ انساں کُھل اُس کی جانب ہی دروازہء جاں کُھلے جانے عمرِ رواں لے کے جاتی کہاں خیر سے مُجھ کو خیر البشر مل گیا محورِ دو جہاں ذات سرکار کی اور مری حیثیت ایک پرکار کی اُس […]

نبی کا نام جب میرے لبوں پر رقص کرتا ہے

لہو بھی میری شریانوں کے اندر رقص کرتا ہے میری بے چین آنکھوں میں وہ جب تشریف لاتے ہیں تصور ان کے دامن سے لپٹ کر رقص کرتا ہے وہ صحراؤں میں بھی پانی پلا دیتے ہیں پیاسوں کو کہ ان کی انگلیوں میں بھی سمندر رقص کرتا ہے پڑے ہیں نقشِ پائے مصطفٰے کے […]

کرم کے بادل برس رہے ہیں

دلوں کی کھیتی ہری بھری ہے یہ کون آیا کہ ذکر جسکا نگر نگر ہے گلی گلی ہے یہ کون بن کر قرار آیا یہ کون جانِ بہار آیا گلوں کے چہرے ہیں نکھرے نکھرے کلی کلی میں شگفتگی ہے دیئے گلوں کے جلائے رکھنا نبی کی محفل سجائے رکھنا جو راحتِ دل سکونِ جاں […]

ہر ایک لمحے کے اندر قیام تیرا ہے

زمانہ ہم جسے کہتے ہیں نام تیرا ہے درائے اول و آخر ہے تو مرے مولٰی نہ ابتدا نہ کوئی اختتام تیرا ہے تری ثنا میں ہے مصروف بے زبانی بھی سکوتِ وقت کے لب پہ کلام تیرا ہے شعور نے سفرِ لاشعور کر دیکھا تمام لفظ ہیں اسکے ’دوام‘​ تیرا ہے تمام عمر کٹے […]

دل آپ پر تصدق جاں آپ پر سے صدقے

آنکھوں سے سر ہے قرباں آنکھیں ہیں سر سے صدقے کہتے ہیں گرد عارض باہم یہ دونوں گیسو میں ہوں ادھر سے صدقے تو بھی ادھر سے صدقے کہتا ہے مہر و مہ سے رخ دیکھ کر نبی کا تو شام سے ہے قرباں میں ہوں سحر سے صدقے ناف زمیں ہے شہ کا مانند […]

سرِ میدانِ محشر جب مری فردِ عمل نکلی

تو سب سے پہلے اس میں نعتِ حضرت کی غزل نکلی طبیعت ان کے دیوانوں کی اب کچھ کچھ سنبھل نکلی ہوائے دشتِ طیبہ گلشنِ جنت میں چل نکلی بڑا دعوٰی تھا خورشیدِ قیامت کو حرارت کا ترے ابرِ کرم کو دیکھ کر رنگت بدل نکلی لپٹ کر رہ گئے مجرم ترے دامانِ رحمت میں […]

صبح میلادالنبی ہے کیا سہانا نور ہے

صبح میلاد النبی ہے کیا سہانا نور ہے آ گیا وہ نور والا جس کا سارا نور ہے بزم طیبہ کیسی نورانی ہے، کتنا نور ہے نور ہے پھر نور کس کا جو سراپا نور ہے عرش نوری، فرش نوری، ذرہ ذرہ نور ہے نور کا دربار ہے، ہر سمت چھایا نور ہے ڈالی ڈالی […]

مرحبا سید مکی مدنی العربی (جان قدسی)

اے کہ ہے ختم تری ذات پہ والا نسبی وہ تری شان ہے اے ہاشمی و مطلبی حبذا صلِّ علٰی اے مرے ممتاز نبی مرحبا سید مکی مدنی العربی دل وجاں باد فدایت چہ عجب خوش لقبی شافعِ حشر، شہنشاہِ جہاں، فخرِ امم دونوں عالم میں نہیں تجھ سا حسیں تیری قسم ایک میں کیا […]