خسروی اچھی لگی نہ سروری اچھی لگی
ہم فقیروں کو مدینے کی گلی اچھی لگی دور تھے تو زندگی بے رنگ تھی بے کیف تھی ان کے کوچے میں گئے تو زندگی اچھی لگی میں نہ جاؤں گا کہیں بھی در نبی کا چھوڑ کر مجھ کو کوئے مصطفی کی چاکری اچھی لگی یوں تو کہنے کو گزاری زندگی میں نے مگر […]