زمین و زماں تمہارے لئے ، مکین و مکاں تمہارے لیے

چنین و چناں تمہارے لئے ، بنے دو جہاں تمہارے لیے دہن میں زباں تمہارے لئے بدن میں ہے جاں تمہارے لیے ہم آئے یہاں تمہارے لئے اٹھیں بھی وہاں تمہارے لیے فرشتے خِدَم رسولِ حشم تمامِ اُمم غلامِ کرم وجود و عدم حدوث و قدم جہاں میں عیاں تمہارے لیے کلیم و نجی مسیح […]

دل میں ہے خیال رخ نیکوئے محمد

اللہ کے گھر میں ہے بسی بوئے محمد کیا رنگ تصور ہے کہ ہر سانس سے مل کر آتی ہے ہوائے چمن کوئے محمد لے جائے اجل جان کی پروا نہیں مجھ کو ہے تار رگ جاں مجھے ہر سوئے محمد آ جائے نظر راہ میں گر نقش کف پا آنکھوں سے چلوں میں طرف […]

بدل یا فرد جو کامل ہے یا غوث

تِرے ہی در سے مستکمل ہے یا غوث جو تیری یاد سے ذاہل یا غوث وہ ذکر اللہ سے غافل ہے یا غوث اَنَا السَّیَّاف سے جاہل ہے یا غوث جو تیرے فضل پر صائل ہے یا غوث سخن ہیں اصفیا، تو مغزِ معنیٰ بدن ہیں اولیا، تو دل ہے یا غوث اگر وہ جسمِ […]

ملکِ خاصِ کبریا ہو

مالکِ ہر ماسوا ہو کوئی کیا جانے کہ کیا ہو عقل ِعالَم سے ماوَرا ہو کنزِ مکتوم ِازل میں دُرِّ مکنونِ خدا ہو ق سب سے اوّل سب سے آخر ابتداء ہو انتہا ہو تھے وسیلے سب نبی، تم اصلِ مقصودِ ہدیٰ ہو پاک کرنے کو وضو تھے تم نمازِ جانفزا ہو سب بِشارت کی […]

جو تیرا طفل ہے کامل ہے یا غوث

طُفیلی کا لقب واصل ہے یا غوث تصوّف تیرے مکتب کا سبق ہے تَصرّف پر تِرا عامل ہے یا غوث تِری سَیرِ اِلَی اللہ ہی ہے فِی اللہ کہ گھر سے چلتے ہی مُوصل ہے یا غوث تو نورِ اوّل و آخر ہے مولیٰ تو خیرِ عاجل و آجل ہے یا غوث ملک کے کچھ […]

سخن کو رتبہ ملا ہے مری زباں کیلئے

زباں ملی ہے مجھے نعت کے بیاں کیلئے زمیں بنائی گئی کس کے آستاں کیلئے کہ لا مکاں بھی اٹھا سر و قد مکاں کیلئے ترے زمانے کے باعث زمیں کی رونق ہے ملا زمین کو رتبہ ترے زماں کیلئے کمال اپنا دیا تیرے بدر عارض کو کلام اپنا اتارا تری زباں کیلئے نبی ہے […]

سمتِ کاشی سے چلا جانبِ مَتُھرا بادل

برق کے کاندھے پہ لاتی ہے صبا گنگا جَل گھر میں اشنان کریں سرو قدانِ گوکل جا کے جَمُنا پہ نہانا بھی ہے اِک طولِ اَمَل خبر اُڑتی ہُوئی آئی ہے مہابن میں ابھی کہ چلے آتے ہیں تیرَتھ کو ہَوا پر بادل تہ و بالا کئے دیتے ہیں ہَوا کے جھونک بیڑے بھادوں کے […]

تِرا ذرّہ مہِ کامل ہے یا غوث

تِرا قطرہ یمِ سائل ہے یا غوث کوئی سالک ہے یا واصل ہے یا غوث وہ کچھ بھی ہو تِرا سائل ہے یا غوث قدِ بے سایہ ظِلِّ کبریا ہے تو اُس بے سایہ ظل کا ظل ہے یا غوث تِری جاگیر میں ہے شرق تا غرب قلمر و میں حرم تا حل ہے یا […]

ملا محبوب ہے رب العلی کا

عجب انداز ہے فضل خدا کا محبت بانٹنا ہے کام اس کا جو بھی ہے نام لیوا مصطفٰی کا زمانہ مجھ سے کرتا ہے محبت کہ ہوں مدحت سرا خیرالوری کا بنے گرویدہ سب عرب و عجم کے یہ بھی اک معجزہ ہے دوسرا کا یہ جاں ناموس پر قربان کر دوں نصیبا اوج پر […]

مقدّر میں جہاں بھر کے فنا ہے

مرے مولا ! مگر تجھ کو بقا ہے تجھے ہی کبریائی بس روا ہے مرے اللہ ! تُوسب سے بڑا ہے میں تیرا ہوں ، ترا ہوں ، بس ترا ہوں تُو میرا ہے ، مرا ہے ، بس مرا ہے عبادت کرتا ہُوں میں بس تری ہی مرے اللہ تُو میرا خدا ہے تُو […]