نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے
چراغ اور اندھیرے کے درمیاں وہ ہے نمود لالہ و گل میں وہی ہے چہرہ نما شجر شجر پہ لکھا حرفِ داستاں وہ ہے جبین شمس و قمر اس کے نور سے تاباں سنہری دھوپ ہے وہ حسن کہکشاں وہ ہے اسی کی ذات کے ممنون خدوخال حیات کہ اور کون ہے صورت گر جہاں […]