نشاں اسی کے ہیں سب اور بے نشاں وہ ہے

چراغ اور اندھیرے کے درمیاں وہ ہے نمود لالہ و گل میں وہی ہے چہرہ نما شجر شجر پہ لکھا حرفِ داستاں وہ ہے جبین شمس و قمر اس کے نور سے تاباں سنہری دھوپ ہے وہ حسن کہکشاں وہ ہے اسی کی ذات کے ممنون خدوخال حیات کہ اور کون ہے صورت گر جہاں […]

نعت میں کیسے کہوں اُن کی رضا سے پہلے​

میرے ماتھے پہ پسینہ ہے ثنا سے پہلے​ ​نور کا نام نہ تھا عالمِ امکاں میں کہیں​ جلوئہ صاحب لولاک لما سے پہلے​ ​اُن کا در وہ درِ دولت ہے جہاں شام و سحر​ بھیک ملتی ہے فقیروں کو صدا سے پہلے​ ​اب یہ عالم ہے کہ دامن کا سنبھلنا ہے محال​ کچھ بھی دامن […]

نماز

آواز پانچ وقت لگاتی ہے مومنوں آؤ نماز ہم کو بلاتی ہے مومنوں حی علیٰ الصلوٰۃ کی آواز جب سنو چل دو نماز کے لیے ہر کام چھوڑ دو کیسے کہوں کہ ملتا ہے کیا کیا نماز میں حد یہ کہ رب سے ملتا ہے بندہ نماز میں فرمانِ مصطفی ہے یہ دین کا ستون […]

وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے

وہ جو شبنم کی پوشاک پہنے ہوئے زرد پتوں کے جسموں میں لہرا گئے جن کے نقش کفِ پاک کی رعنائیاں نسل آدم کو خاکِ شفا بن گئیں عرشِ اعظم کی دہلیز کے اُس طرف نام جن کا ازل ہی میں لکھا گیا جو کتابِ جہاں کے سیہ حاشیے پر اُجالوں کی رحمت رقم کر […]

وہ کیا ایک ہے ذاتِ پروردگار​

فقط بے شماری ہے جس کا شمار​ وہ کیا ایک خالق ہے نامِ خدا​ نہیں جس کا ثانی کوئی دوسرا​ وہ کیا ایک رازق ہے روزی رساں​ کہ ہے جس کا محتاج سارا جہاں​ وہ کیا ایک قادر ہے ربِ قدیر​ خبر گیرِ حالِ صغیر و کبیر​ وہ کیا ذات ہے حضرتِ پاک ذات​ کہ […]

کعبے کی رونق کعبے کا منظر، اللہ اکبر، اللہ اکبر

دیکھوں تو دیکھے جاؤں برابر، اللہ اکبر، اللہ اکبر حیرت سے خود کو کبھی دیکھتا ہوں اور دیکھتا ہوں کبھی میں حرم کو لایا کہاں مجھ کو میرا مقدر، اللہ اکبر، اللہ اکبر حمد خدا سے تر ہیں زبانیں، کانوں میں رَس گھولتی ہیں اذانیں بس اِک صدا آ رہی ہے برابر، اللہ اکبر، اللہ […]

کون پانی کو اڑاتا ہے ہوا کے دوش پر​

کس نے بخشی پیڑ کو آتش پذیری سوچئے​ کس کے لطفِ خاص سے نغمہ فشاں ہے سانس کی​ دھیمی دھیمی، دھیری دھیری یہ نفیری سوچئے​ کس کی شانِ کُن فکاں سے پھوٹتا ہے خاک سے​ یہ گیاہِ سبز کا فرشِ حریری سوچئے​ کون دیتا ہے جوانی میں لہو کو حِدّتیں​ کون کردیتا ہے عاجز وقتِ […]

کھویا کھویا ہے دل، ہونٹ چپ، آنکھ نم، ہیں مواجہ پہ ہم

روبرو اُن کے لایا ہے اُن کا کرم، ہیں مواجہ پہ ہم لمحے لمحے پہ آیات کا نور ہے، نعت کا نور ہے نور افشاں، دُرودی فضا دم بہ دم، ہیں مواجہ پہ ہم ایک کونے میں ہیں، سر جھکائے ہوئے، منھ چھپائے ہوئے گردنیں ہیں کہ بارِ ندامت سے خم، ہیں مواجہ پہ ہم […]

ہوش و خرد سے کام لیا ہے

اُن کا دامن تھام لیا ہے لوگو دُرودِ پاک پڑھو تم میں نے اُن کا نام لیا ہے طوف حرم اور عشق کی چادر کیا اچھا احرام لیا ہے اُن کی راہ پہ چلتے رہنا کام یہ خوش انجام لیا ہے چپ رہ کر سب کچھ کہہ ڈالا اشکوں سے کیا کام لیا ہے میں […]

ہے سلطانوں کا ایک سلطان ​

ہے سلطانوں کا ایک سلطان ہے حنان اللہ ، ہے منان مہیمن ، حفیظ اور نگہبان عفُو اور رحیم اور رحمٰن زباں سے بھی کہنا ہے آسان دلوں میں بسانا ہے ایمان سرور و مسرّت کا سامان دلِ صاحبِ دل کا ارمان نرالا ، اکیلا جہاں بان ہے خلاقِ حیوان و بے جان عطا کر […]