اُبھری اک آواز
اُبھری اک آواز کوہِ صفا پر آئی نظر رنگوں کی پرواز
معلیٰ
اُبھری اک آواز کوہِ صفا پر آئی نظر رنگوں کی پرواز
ذہن سلگتے تھے آپ سے پہلے اے ہادی لوگ بھٹکتے تھے
روشن ہیں چہرے رنگ ہیں جن پر آقا کی نسبت کے گہرے
سیرت کے انوار سورج بن کر اُبھرے ہیں ان کے پیروکار
لکھیے ان کا نام اُجلے موسم اُتریں گے دل پر صبح و شام
معراجِ سرکار وقت نے رُک کر دیکھی ہے انساں کی رفتار
مہکی ہیں راہیں پھیلی ہوئی ہیں طیبہ میں خوشبو کی بانہیں
کچھ تشکیک نہیں کس کے دامن میں اُن کے در کی بھیک نہیں
کھولے سب جوہر آپ نے نوعِ انساں کو فکرِ نو دے کر
ہے پاک رُتبہ اُس بے نیاز کا کچھ دخل عقل کا ہے نہ کام امتیاز کا شہہ رگ سے کیوں وصال ہے آنکھوں سے کیوں حجاب کیا کام اس جگہ خردِ ہرزہ تاز کا لب بند اور دل میں وہ جلوے بھرے ہوئے اللہ رے جِگر تیرے آگاہ زار کا غش آگیا کلیم سے مشتاقِ […]