ہے پاک رتبہ اس بے نیاز کا

ہے پاک رُتبہ اُس بے نیاز کا کچھ دخل عقل کا ہے نہ کام امتیاز کا شہہ رگ سے کیوں وصال ہے آنکھوں سے کیوں حجاب کیا کام اس جگہ خردِ ہرزہ تاز کا لب بند اور دل میں وہ جلوے بھرے ہوئے اللہ رے جِگر تیرے آگاہ زار کا غش آگیا کلیم سے مشتاقِ […]