مژدہ باد اے عاصیو! شافع شہِ ابرار ہے

تہنیت اے مجرمو! ذاتِ خدا غفّار ہے عرش سا فرشِ زمیں ہے فرشِ پا عرشِ بریں کیا نرالی طرز کی نامِ خُدا رفتار ہے چاند شق ہو پیڑ بولیں جانور سجدے کریں بَارَکَ اللہ مرجعِ عالَم یہی سرکار ہے جن کو سوئے آسماں پھیلا کے جل تھل بھر دیے صدقہ اُن ہاتھوں کا پیارے ہم […]

سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے

باغِ خلیل کا گلِ زیبا کہوں تجھے حرماں نصیب ہوں تجھے اُمید گہ کہوں جانِ مراد و کانِ تمنا کہوں تجھے گلزارِ قدس کا گل رنگیں ادا کہوں درمانِ دردِ بلبلِ شیدا کہوں تجھے صبح وطن پہ شامِ غریباں کو دُوں شرف بیکس نواز گیسوؤں والا کہوں تجھے اللہ رے تیرے جسم منور کی تابشیں […]

کس کے جلوے کی جھلک ہے یہ اجالا کیا ہے

ہر طرف دیدۂ حیرت زدہ تکتا کیا ہے مانگ من مانتی منھ مانگی مرادیں لے گا ”نہ یہاں ”نا” ہے نہ منگتا سے یہ کہنا ”کیا ہے پند کڑوی لگے ناصح سے ترش ہواے نفس زہرِ عصیاں میں ستمگر تجھے میٹھا کیا ہے ہم ہیں اُن کے وہ ہیں تیرے تو ہوئے ہم تیرے اس […]

کیا مہکتے ہیں مہکنے والے

بو پہ چلتے ہیں بھٹکنے والے جگمگا اٹھی مِری گور کی خاک تیرے قربان چمکنے والے مہِ بے داغ کے صدقے جاؤں یوں دمکتے ہیں دمکنے والے عرش تک پھیلی ہے تابِ عارض کیا جھلکتے ہیں جھلکنے والے گُل طیبہ کی ثنا گاتے ہیں نخل طوبیٰ پہ چہکنے والے عاصیو! تھام لو دامن اُن کا […]

آنکھیں رو رو کے سُجانے والے

جانے والے نہیں آنے والے کوئی دن میں یہ سرا اوجڑ ہے ارے او چھاؤنی چھانے والے ذبح ہوتے ہیں وطن سے بچھڑے دیس کیوں گاتے ہیں گانے والے ارے بد فال بری ہوتی ہے دیس کا جنگلا سنانے والے سن لیں اَعدا! میں بگڑنے کا نہیں وہ سلامت ہیں بنانے والے آنکھیں کچھ کہتی […]

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

مِرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے برستا نہیں دیکھ کر ابرِ رحمت بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے مدینے کے خطّے خدا تجھ کو رکھے غریبوں، فقیروں کے ٹھہرانے والے تو زندہ ہے واللہ! تو زندہ ہے واللہ مِرے چشمِ عالَم سے چھپ جانے والے میں مجرم ہوں آقا! مجھے ساتھ لے لو […]

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے

آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ ہم سے پیاسوں کے لئے دریا بہاتے جائیں گے کُشتگانِ گرمیِ محشر کو وہ جانِ مسیح آج دامن کی ہوا دے کر جِلاتے جائیں گے گُل کِھلے گا آج یہ اُن کی نسیمِ فیض سے […]

قافلے نے سوئے طیبہ کمر آرائی کی

مشکل آسان الٰہی مِری تنہائی کی لاج رکھ لی طَمَعِ عفو کے سودائی کی اے میں قرباں مِرے آقا بڑی آقائی کی فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضر بس قسم کھائیے اُمّی تِری دانائی کی شش جہت سمت مقابل شب و روز ایک ہی حال دھوم وَالنَّجْم میں ہے آپ کی بینائی کی پانسو […]

عرشِ حق ہے مسندِ رفعت رسولُ اللہ کی

دیکھنی ہے حشر میں عزت رسولُ اللہ قبر میں لہرائیں گے تا حشر چشمے نور کے جلو فرما ہوگی جب طلعت رسول ُاللہ کے کافروں پر تیغ والا سے گری برقِ غضب ابر آسا چھاگئی ہیبت رسول ُاللہ کی لاَ وَ رَبِّ اَلعَرش جس کو جو ملا اُن سے ملا بٹتی ہے کونین میں نعمت […]