یا الٰہی! رحم فرما مصطفیٰ کے واسطے

یارسولَ اللہ! کرم کیجے خدا کے واسطے مشکلیں حل کر شہِ مشکل کُشا کے واسطے کر بلائیں رد شہیدِ کربلا کے واسطے سیّدِ سجاد کے صدقے میں ساجد رکھ مجھے علمِ حق بے باقرِ علمِ ہُدیٰ کے واسطے صدقِ صادق کا تَصدّق صادق الاسلام کر بے غضب راضی ہو کاظم اور رضا کے واسطے بہرِ […]

اللہ، اللہ کے نبی سے

فریاد ہے نفس کی بدی سے دن بھر کھیلوں میں خاک اڑائی لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سے شب بھر سونے ہی سے غرض تھی تاروں نے ہزار دانت پیسے ایمان پہ مَوت بہتر او نفس تیری ناپاک زندگی سے او شہد نمائے زہر در جام گم جاؤں کدھر تِری بدی سے گہرے پیارے […]

مومن وہ ہے جو اُن کی عزّت پہ مَرے دل سے

تعظیم بھی کرتا ہے نجدی تو مَرے دل سے واللہ وہ سن لیں گے فریاد کو پہنچیں گے اتنا بھی تو ہو کوئی جو آہ کرے دل سے بچھڑی ہے گلی کیسی بگڑی ہے بنی کیسی پوچھو کوئی یہ صدمہ ارمان بھرےدل سے کیا اس کو گرائے دہر جس پر تو نظر رکھے خاک اُس […]

دل کو اُن سے خدا جدا نہ کرے

بے کسی لوٹ لے خدا نہ کرے اس میں روضہ کا سجدہ ہو کہ طواف ہوش میں جو نہ ہو وہ کیا نہ کرے یہ وہی ہیں کہ بخش دیتے ہیں کون ان جرموں پہ سزا نہ کرے سب طبیبوں نے دے دیا ہے جواب آہ عیسیٰ اگر دوا نہ کرے دل کہاں لے چلا […]

سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی

سب سے بالا و والا ہمارا نبی اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی دونوں عالم کا دولھا ہمارا نبی بزمِ آخر کا شمع فروزاں ہوا نورِ اوّل کا جلوہ ہمارا نبی جس کو شایاں ہے عرشِ خُدا پر جلوس ہے وہ سلطانِ والا ہمارا نبی بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مشعلیں شمع وہ لے […]

رونقِ بزمِ جہاں ہیں عاشقانِ سوختہ

کہہ رہی ہے شمع کی گویا زبانِ سوختہ جس کو قُرصِ مہر سمجھا ہے جہاں اے منعمو اُن کے خوانِ جود سے ہے ایک نانِ سوختہ ماہِ من یہ نیّرِ محشر کی گرمی تابکے آتشِ عصیاں میں خود جلتی ہے جانِ سوختہ برقِ انگشتِ نبی چمکی تھی اس پر ایک بار آج تک ہے سینۂ […]

گنہ گاروں کو ہاتف سے نویدِ خوش مآلی ہے

مُبارک ہو شفاعت کے لیے احمد سا والی ہے قضا حق ہے مگر اس شوق کا اللہ والی ہے جو اُن کی راہ میں جائے وہ جان اللہ والی ہے تِرا قدِ مبارک گلبنِ رحمت کی ڈالی ہے اسے بو کر تِرے رب نے بنا رحمت کی ڈالی ہے تمھاری شرم سے شانِ جلالِ حق […]

اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے

دلِ بے کس کا اِس آفت میں آقا تو ہی والی ہے نہ ہو مایوس آتی ہے صدا گورِ غریباں سے نبی امّت کا حامی ہے خدا بندوں کا والی ہے اترتے چاند ڈھلتی چاندنی جو ہو سکے کر لے اندھیرا پاکھ آتا ہے یہ دو دن کی اجالی ہے ارے یہ بھیڑیوں کا بن […]

اٹھا دو پردہ دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے

زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے نہیں وہ میٹھی نگاہ والا خدا کی رحمت ہے جلوہ فرما غضب سے اُن کے خدا بچائے جلالِ باری عتاب میں ہے جلی جلی بو سے اُس کی پیدا ہے سوزشِ عشقِ چشمِ والا کبابِ آہو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل […]

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

جانِ مُراد اب کدھر ہائے تِرا مکان ہے بزم ثنائے زلف میں میری عروسِ فکر کو ساری بہارِ ہشت خُلد چھوٹا سا عطردان ہے عرش پہ جا کے مرغِ عقل تھک کے گرا غش آ گیا اور ابھی منزلوں پرے پہلا ہی آستان ہے عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ فرش میں طرفہ دھوم دھام کان […]