صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا

صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا مست بو ہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا بارھویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا بارہ برجوں سے جھکا ایک اِک ستارہ نور کا ان کے قصرِ قدر سے خلد ایک کمرہ نور کا سدرہ […]

آتے رہے انبیا کَمَا قِیلَ لَھُم

وَالخَاتَمُ حَقُّکُم کہ خاتم ہوئے تم یعنی جو ہُوا دفترِ تَنزِیل تمام آخر میں ہُوئی مُہر کہ اَکمَلتُ لَکُم اللہ کی سرتا بقدم شان ہیں یہ اِن سا نہیں انسان وہ انسان ہیں یہ قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ​ کعبہ سے اگر تربتِ شاہ فاضل ہے […]

وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے

نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لئے تھے بہار ہے شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارک ملک فلک اپنی اپنی لے میں یہ گھر عنا دل کا بولتے تھے وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں ادھر سے انوار ہنستے آتے ادھر سے نفحات اٹھ رہے تھے […]

دشمنِ احمد پہ شدّت کیجیے

ملحدوں کی کیا مروّت کیجیے ذکر اُن کا چھیڑیے ہر بات میں چھیڑنا شیطاں کا عادت کیجیے مثلِ فارس زلزلے ہوں نجد میں ذکرِ آیاتِ ولادت کیجیے غیظ میں جل جائیں بے دینوں کے دل ’’ یَا رَسُوْلَ اللہ ‘​‘​ کی کثرت کیجیے کیجیے چرچا اُنھیں کا صبح و شام جانِ کافر پر قیامت کیجیے […]

سنتے ہیں کہ محشر میں صرف اُن کی رسائی ہے

گر اُن کی رسائی ہے لو جب تو بن آئی ہے مچلا ہے کہ رحمت نے امّید بندھائی ہے کیا بات تِری مجرم کیا بات بنائی ہے سب نے صفِ محشر للکار دیا ہم کو اے بے کسوں کے آقا! اب تیری دہائی ہے یوں تو سب اُنھیں کا ہے پر دل کی اگر پوچھو […]

نہ عرش، ایمن نہ اِنِّیْ ذَاہِبٌ میں میہمانی ہے

نہ لطفِ اُدْنُ یَا اَحْمَدْ نصیبِ لَنْ تَراَنِیْ ہے نصیبِ دوستاں گر اُن کے دَر پر مَوت آنی ہے خدا یوں ہی کرے پھر تو ہمیشہ زندگانی ہے اُسی در پر تڑپتے ہیں مچلتے ہیں بلکتے ہیں اٹھا جاتا نہیں کیا خوب اپنی ناتوانی ہے ہر اِک دیوار و در پر مہر نے کی ہے […]

زمانہ حج کا ہے جلوہ دیا ہے شاہدِ گل کو

الٰہی طاقتِ پرواز دے پر ہائے بلبل کو بہاریں آئیں جوبن پر گھرا ہے ابر رحمت کا لبِ مشتاق بھیگیں دے اجازت ساقیا مل کو ملے لب سے وہ مشکیں مہر والی دم میں دم آئے ٹپک سن کر قمِ عیسیٰ کہوں مستی میں قلقل کو مچل جاؤں سوالِ مدعا پر تھام کر دامن بہکنے […]

راہِ عرفاں سے جو ہم نادیدہ رو محرم نہیں

مصطفےٰ ہے مسندِ ارشاد پر کچھ غم نہیں ہوں مسلماں گرچہ ناقص ہی سہی اے کاملو ماہیت پانی کی آخر یم سے نم میں کم نہیں غنچے ما اَوحیٰ کے جو چٹکے دَنیٰ کے باغ میں بلبلِ سدرہ تک اُنکی بُو سے بھی محرم نہیں اُس میں زم زم ہے کہ تھم تھم ، اس […]

ہے لبِ عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میں

سنگریزے پاتے ہیں شیریں مقالی ہاتھ میں بے نواؤں کی نگاہیں ہیں کہاں تحریرِ دست رہ گئیں جو پا کے جودِ یزالی ہاتھ میں کیا لکیروں میں ید اللہ خط سرو آسا لکھا راہ یوں اس راز لکھنے کی نکالی ہاتھ میں جودِ شاہِ کوثر اپنے پیاسوں کا جویا ہے آپ کیا عجب اڑ کر […]

ان کی مہک نے دل کے غنچے کھلا دیئے ہیں

جس راہ چل گئے ہیں کوچے بسا دیئے ہیں جب آگئی ہیں جوش رحمت پہ ان کی آنکھیں جلتے بجھا دیئے ہیں روتے ہیں ہنسا دیئے ہیں اک دل ہمارا کیا ہے آزار اس کا کتنا تم نے تو چلتے پھرتے ہیں مردے جلا دیئے ہیں ان کے نثار کوئی کیسے ہی رنج میں ہو […]