صبح طیبہ میں ہوئی بٹتا ہے باڑا نور کا
صدقہ لینے نور کا آیا ہے تارا نور کا باغِ طیبہ میں سہانا پھول پھولا نور کا مست بو ہیں بلبلیں پڑھتی ہیں کلمہ نور کا بارھویں کے چاند کا مجرا ہے سجدہ نور کا بارہ برجوں سے جھکا ایک اِک ستارہ نور کا ان کے قصرِ قدر سے خلد ایک کمرہ نور کا سدرہ […]