یادِ وطن ستم کیا دشتِ حرم سے لائی کیوں

بیٹھے بٹھائے بد نصیب سر پہ بلا اٹھائی کیوں دل میں تو چوٹ تھی دبی ہائے غضب ابھر گئی پوچھو تو آہِ سرد سے ٹھنڈی ہوا چلائی کیوں چھوڑ کے اُس حرم کو آپ بَن میں ٹھگوں کے آ بسو پھر کہو سر پہ دھر کے ہاتھ لٹ گئی سب کمائی کیوں باغِ عرب کا […]

پوچھتے کیا ہو عرش پر یوں گئے مصطفیٰ کہ یوں

کیف کے پر جہاں جلیں کوئی بتائے کیا کہ یوں قصرِ دنیٰ کے راز میں عقلیں تو گم ہیں جیسی ہیں روحِ قدس سے پوچھئے تم نے بھی کچھ سنا کہ یوں میں نے کہا کہ جلوۂ اصل میں کس طرح گُمیں صبح نے نورِ مہر میں مٹ کے دکھا دیا کہ یوں ہائے رے […]

یاد میں جس کی نہیں ہوش ِتن و جاں ہم کو

یاد میں جس کی نہیں ہوشِ تن و جاں ہم کو پھر دکھادے وہ رخ اے مہرِ فروزاں ہم کو دیر سے آپ میں آنا نہیں ملتا ہے ہمیں کیا ہی خور رفتہ کیا جلوہٴِ جاناں ہم کو جس تبسم نے گلستاں پہ گرائی بجلی پھر دکھادے وہ ادائے گلِ خنداں ہم کو کاش آویزہ […]

تو ہے وہ غوث کہ ہر غوث ہے شیدا تیرا

تو ہے وہ غیث کہ ہر غیث ہے پیاسا تیرا سورج اگلوں کے چمکتے تھے چمک کر ڈوبے افقِ نور پہ ہے مہر ہمیشہ تیرا مرغ سب بولتے ہیں بول کے چپ رہتے ہین ہاں اصیل ایک نوا سنج رہے گا تیرا جو ولی قبل تھے یا بعد ہوئے یا ہوں گے سب ادب رکھتے […]

پاٹ وہ کچھ دھار یہ کچھ زار ہم

یا الٰہی کیوں کر اتریں پار ہم کس بلا کی مے سے ہیں سرشار ہم دن ڈھلا ہوتے نہیں ہشیار ہم تم کرم سے مشتری ہر عیب کے جنسِ نامقبولِ ہر بازار ہم دشمنوں کی آنکھ میں بھی پھول تم دوستوں کی بھی نظر میں خار ہم لغزشِ پا کا سہارا ایک تم گرنے والے […]

سر تا بقدم ہے تن سلطان زمن پھول

لب پھول، دہن، پھول، ذقن پھول، بدن پھول صدقے میں ترے باغ تو کیا لائے ہیں بن پھول اس غنچہ ءِ دل کو بھی تو ایما ہو کہ بن پھول تنکا بھی ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا تم چاہو تو ہو جائے ابھی کوہِ محن پھول واللہ جو مل جاے مرے گل کا پسینہ مانگے […]

نارِ دوزخ کو چمن کر دے بہارِ عارض

ظلمتِ حشر کو دن کر دے نہارِ عارض میں تو کیا چیز ہوں خود صاحبِ قرآں کو شہا لاکھ مصحف سے پسند آئی بہارِ عارض جیسے قرآن ہے ورد اس گل محبوبی کا یوں ہی قرآں کا وظیفہ ہے وقارِ عارض گرچہ قرآں ہے نہ قرآں کی برابر لیکن کچھ تو ہے جس پہ ہے […]

محمد مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا

محمد  مظہر کامل ہے حق کی شان عزت کا نظر آتا ہے اس کثرت میں کچھ انداز وحدت کا یہی ہے اصل عالم مادہ ایجاد خلقت کا یہاں وحدت میں برپا ہے عجب ہنگامہ کثرت کا گدا بھی منتظر ہے خلد میں نیکوں کی دعوت کا خدا دن خیر سے لائے سخی کے گھر ضیافت […]

عشق مولیٰ میں ہو خوں بار کنارِ دامن

یا خدا جلد کہیں آئے بہارِ دامن بہہ چلی آنکھ بھی اشکوں کی طرح دامن پر کہ نہیں تار نظر جز دو سہ تارِ دامن اشک برساؤں چلے کوچہ ءِ جاناں سے نسیم یا خدا جلد کہیں نکلے بخارِ دامن دل شدوں کا یہ ہوا دامنِ اطہر پہ ہجوم بیدل آباد ہوا نام دیارِ دامن […]

دیارِ محمد سے کیا بن کے آئی

نسیمِ سحر دل کشا بن کے آئی خدا کی قسم رہنما بن کے آئی دلیلِ خدا مصطفیٰ بن کے آئی خلیلِ خدا نے کہ چاہی دعا میں وہ ہستی حبیبِ خدا بن کے آئی اسی ذات سے آسماں بھی ہیں روشن جو ظلمت کدے میں ضیا بن کے آئی جو ساعت کہ گزری تھی ان […]