آساں تو نہیں لکھنی کچھ نعتِ نبی آخر

مجبور کیا دل نے لکھنی ہی پڑی آخر رحمت کی نظر میرے اللہ نے کی آخر نبیوں میں جو اول تھا بھیجا وہ نبی آخر باقی تھی کسر تھوڑی جو قصرِ نبوت میں بعثت سے محمد کی پوری وہ ہوئی آخر نکلا جو مہِ بطحا کافور ہوئی ظلمت اس عالمِ تیرہ کی تقدیر کھلی آخر […]

کیسے لکھوں نعتِ مزین

ایک یہ دل اور لاکھوں الجھن احمدِ مرسل زینتِ گلشن عالمِ امکاں ان سے معنون دمکے چہرہ جیسے کندن زلفِ معطر رشکِ گلبن آنکھیں دلکش مست ہے چتون قامتِ زیبا سرو گلشن مشک و عنبر ان کا پسینہ حلّہِ جنت جسم کی اترن مکہ ان کی جائے ولادت شہرِ مدینہ ان کا مسکن ان پہ […]

لکھنے بیٹھا ہوں میں نعتِ صاحبِ خلقِ عظیم

دستگیری میری فرما اے مرے ربِ کریم نورِ چشمِ آمنہ بی نامور دُرِ یتیم ہے خلف اس کا کہ جس سے منسلک ذبحِ عظیم وہ سراج الانبیاء، ختم الرسل، سید، زعیم وہ کہ ہے قندیلِ روشن بر صراطِ مستقیم وہ سپہ سالارِ اعظم وہ دلاور وہ جری اس کی سطوت سے دہلتا تھا دلِ فوجِ […]

آقائے دوجہاں کی لب پر جو گفتگو ہے

ہے جان و دل معطر ہر سانس مشکبو ہے بلبل میں خوش نوائی پھولوں میں رنگ و بو ہے رونق تمہارے دم سے در بزمِ کاخ و کو ہے حسن و جمال قرباں جس پر ہوئے وہ تو ہے محفل میں خوبروؤں کی سب سے خوبرو ہے یک شمۂ تصنع اس میں نہ کچھ غلو […]

سودائے عشقِ شاہِ مدینہ جو سر میں ہے

ہر خاص و عام جانبِ طیبہ سفر میں ہے دنیائے آب و گل میں وہ آئے تھے صبح دم کیف و سرور و نور یونہی تو سحر میں ہے رطب اللساں ہے خالقِ کونین مرحبا وہ حسنِ خلق اف مرے پیغامبر میں ہے ام الکتاب آپ کی ہے معدنِ حِکَم اک حکمتِ خفی کہ جلی […]

ثنائے پاک لکھنے پر طبیعت میری جب آئی

بیک دم روح و تن میں آ گئی طرفہ توانائی مرے اس خاکداں میں اس نے کی جب جلوہ فرمائی زمیں و آسماں سے اک صدائے مژدہ باد آئی شگوفے مسکرائے گل ہنسے بلبل بھی اترائی وہ کیا آئے گلستاں میں بہارِ جاوداں آئی اسی کے واسطے محفل وَ کارِ محفل آرائی نبوت جس کی […]

طبیعت فطرتاََ پائی سخن کے واسطے موزوں

ہے واجب اس لئے مجھ پر ثنائے مصطفیٰ لکھوں کرشمہ کاری دستِ ازل سے ذات میں پاؤں مرقع حسن کا ہے قامتِ زیبائے گندم گوں کشادہ لوحِ پیشانی خوشا وہ گیسوئے شبگوں خمِ ابرو ہلال آسا وہ آنکھیں مست و پر افسوں رخِ انور کی تابانی کی میں تمثیل کس سے دوں ضیائے ماہِ گردوں […]

نعتِ حبیبِ پاک کا مجھ کو مذاق ہے

مجھ پر بھی فضلِ خالقِ نیلی رواق ہے محبوبِ کبریا ہے امام الرسل ہے وہ کیا عزّ و جاہ و منزلت و طمطراق ہے وہ صادق الحدیث، ملقب بہ الامیں دشمن بھی متفق ہیں عجب اتفاق ہے وہ مصحفِ عظیم کہ اترا ہے آپ پر اس میں شفائے دل ہے علاجِ نفاق ہے تخلیقِ کائنات […]

بندہ ملنے کو قریب حضرت قادر گیا

لمعہءِ باطن میں گمنے جلوہءِ ظاہر گیا تیری مرضی پا گیا سورج پھرا الٹے قدم تیری انگلی اٹھ گئی مہ کا کلیجا چر گیا بڑھ چلی تیری ضیا اندھیر عالم سے گھٹا کھل گیا گیسو ترا رحمت کا بادل گھر گیا بندھ گئی ہوا سا وہ میں خاک اڑنے لگی بڑھ چلی تیری ضیا آتش […]

خدا نے چن کے رکھا ہے مبارک نامِ نامی ہے

حبیبِ کبریا واللہ وہ ذاتِ گرامی ہے نبوت ختم ہے ان پر رسالت اختتامی ہے میانِ بندہ و مولا وہ آخر کا پیامی ہے شفیعِ روزِ محشر ہے گنہ گاروں کا حامی ہے مرے آقا کی شخصیت بڑی نامی گرامی ہے وہ ساقی ہے مئے وحدت کا میخانہ عوامی ہے یہیں پر تشنہ کام آئیں […]