نعت گوئی میں ہے اک طرفہ مزا کہتے ہیں

تجربہ ہم کو بھی ہے لوگ بجا کہتے ہیں نامِ نامی کو ترے پیار بھرا کہتے ہیں سنتے ہی صلِّ علیٰ صلِّ علیٰ کہتے ہیں حسنِ صورت کو ترے ہوش ربا کہتے ہیں زہے سیرت جسے قرآں بخدا کہتے ہیں مشکبو ایسی تری زلفِ دوتا کہتے ہیں ہیچ ہے مشکِ ختن مشکِ خطا کہتے ہیں […]

جس کا جو شغل ہے رہتا ہے اسی میں مشغول

ہے خوشا دل کو مرے مشغلۂ نعتِ رسول عالموں سے بھی سنا اور یہی ہے منقول آپ ہیں علتِ غائی یہ جہاں ہے معلول مرحبا خالقِ اکبر سے ثنا ہے منقول اللہ اللہ رے اخلاقِ رسولِ مقبول وہ صحیفہ کے ہے موسوم بنامِ قرآں اہلِ عالم کو ہوا آپ کے ہاتھوں موصول میں سخن ساز […]

مائلِ مدحت ہے آج اپنی طبیعت مرحبا

لکھ رہا ہوں آج میں نعتِ شہِ ہر دو سرا چاند نکلا جب کہ وہ بر مطلعِ ام القریٰ اس نے روئے دہر کو یکسر مطلّا کر دیا اٹھ گیا دستِ خدا جب آپ کا پیشِ خدا پاؤں میں ان کے گرا پھر آدمی فاروقؓ سا ہے سمندر حکمتوں کے موتیوں کا مرحبا اپنی امت […]

عرضِ نیاز تشنہ لب، ذوقِ خیال خام تھا

نعتِ نبی کہاں ہوئی، حرفوں کا انتظام تھا طاقِ وجودِ شوق میں جلتا رہا چراغ دل جلوہ گہِ خیال میں شب کو ترا خرام تھا ایک مدارِ کیف میں بیت گئی طلب گھڑی صبح میں تیری یاد تھی، شام میں تیرا نام تھا تیرے حضور میں کریم یکساں رہا معاملہ پیچھے ترے غلام تھے، آگے […]

لکھتا ہی رہوں سیدِ کونین کی مدحت

اللہ کرے مجھ کو یہ توفیق عنایت مخلوق میں اول ہے مسلّم یہ روایت بعثت میں وہ آخر ہے یہ اللہ کی حکمت بعد آپ کے لاریب ہوئی ختم نبوت پرّاں ہے عَلم آپ کا تا روزِ قیامت قرآں کا معلم ہے وہ بے داغ ہے سیرت صدقے ہے صداقت تو نثار اس پہ امانت […]

قلب یکسو ہے مرا عالمِ تنہائی ہے

نعت لکھنے پہ طبیعت مری آج آئی ہے تنِ سیمیں پہ فدا حسن ہے رعنائی ہے جس نے دیکھا نہیں وہ بھی ترا شیدائی ہے شبِ معراج سے معلوم ہوا ہے ہم کو خلوتِ عرش میں تیری ہی پذیرائی ہے تیری صورت تری سیرت تری فطرت یکتا بارک اللہ تری ذات میں یکتائی ہے روحِ […]

روح کی بالیدگی اور دل کی فرحت کے لئے

نعت لکھتا ہے یہ احقر اس ضرورت کے لئے تا قیامت ساری دنیا کی ہدایت کے لئے آئے سرکارِ دو عالم اس ضرورت کے لئے چاہئے تھا اک نبی ختمِ نبوت کے لئے چن کے بھیجا رب نے ان کو اس ضرورت کے لئے اک نبی آنا تھا نبیوں کی امامت کے لئے بعثتِ محبوبِ […]

آج پروازِ تخیل سوئے آں دلدار ہے

بزمِ ہست و بود میں فطرت کا جو شہکار ہے وہ ہے ختم المرسلیں دنیا کا وہ سردار ہے زیرِ گردوں اس کی ہی سب سے بڑی سرکار ہے نرم خو ہے، خوبرو ہے، صاحبِ کردار ہے مردِ عالی حوصلہ ہے اور بلند افکار ہے دشمنوں سے راہِ حق میں برسرِ پیکار ہے رعب ہیبت […]

نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا

نہیں ہے دم خم کسی میں اتنا ثنا نبی کی جو لکھے کامل ہے نعت گوئی میں میری نیت رضائے خالق ہو مجھ کو حاصل کمال و خوبی ہر ایک لے کے خمیرِ فطرت میں کر کے داخل خدا نے پیدا کیا وہ ہادی کہ جس پہ کرنا تھا دین کامل بھٹک چکا تھا جو […]

دل ہم سے مقتضی ہے ثنائے حضور کا

ہم تک رہے ہیں نور چراغِ شعور کا ذکر آ گیا زباں پہ مری آں حضور کا عالم عجیب دل میں ہے کیف و سرور کا میثاق انبیاء سے وہ ربِ غفور کا چرچا ہوا ازل ہی سے ان کے ظہور کا صورت ہے ان کی آئینۂ حسنِ لم یزل سیرت پہ انعکاس ہے قرآں […]