یادِ شہِ دو عالم سے دل میں ہے چراغاں

پھر آج مرحبا ہوں اس کے لئے ثنا خواں وہ خاتمِ نبوت وہ تاجدارِ ذیشاں وہ قبلۂ دو عالم و کعبۂ دل و جاں وہ فخرِ مرسلیں ہے وہ نازِ پاک بازاں وہ نورِ انجمن ہے وہ شمعِ بزمِ خاصاں دیکھے تو کوئی کیونکر ان کا وہ روئے تاباں رعب و جمال سے ہے سب […]

یہ فضلِ خاصِ خدا ہے ز فضلِ لا محدود

ہوں نغمہ سنجِ نبی خدائے پاک و ودود ہزار گل ہیں دل آرا بہ گلستانِ وجود محمدِ عربی ہے مگر گلِ مقصود یہ مرتبہ ہے یہ ہے شانِ ہستی مسعود جہاں ہو ذکر فرشتے وہیں ہوں آ موجود بلند نام ہے گردوں وقار ہے لاریب ہے اس کے پاؤں کے نیچے فرازِ چرخِ کبود زمیں […]

یاایُّھَا الرّسولُ و یا ایّھُا النّبی

مدحت سرا ہے آپ کا ادنیٰ یہ امتی اپنی جگہ پہ خوب تھا گو حسنِ یوسفی لیکن ترے جمال کی اللہ رے طرفگی تو مصطفیٰ ہے تیری نبوت ہے آخری مختص ہے تجھ سے اب تو زمانہ کی رہبری مبعوث اپنے دور میں ہوتے رہے نبی تجھ سے نہیں کسی کو پہ دعوائے ہمسری چھائی […]

ہے بے مثال شہا ذاتِ عبقری تیری

ہے کس کا منہ جو کرے کوئی ہمسری تیری محیطِ ہر دوجہاں جلوہ گستری تیری خوشا نصیب! دو عالم کی سروری تیری کسے نصیب ہو شانِ تونگری تیری شہنشہی میں بھی چمکی قلندری تیری سیاہ گیسو ہیں آنکھیں ہیں مدھ بھری تیری دلوں کو سب کے لبھائے سمن بری تیری نگاہِ شوق جو پڑ جائے […]

توفیق ہو اے کاش بہم اور زیادہ

توصیفِ محمد ہو رقم اور زیادہ یا رب ہو ترا مجھ پہ کرم اور زیادہ دے عشقِ شہنشاہِ امم اور زیادہ کرتے ہیں ترا ذکر جو ہم اور زیادہ ہو جاتی ہے کم تلخی غم اور زیادہ یاد آئے مجھے شاہِ حرم اور زیادہ بڑھ اے خلشِ تیرِ ستم اور زیادہ ممدوحِ خداوندِ جہاں ہے […]

جب سے کچھ ہوش سنبھالا ہے جبھی سے ہم کو

ہے شغف شکرِ خدا نعتِ نبی سے ہم کو ہیں نبی جتنے عقیدت ہے سبھی سے ہم کو حبّ لیکن ہے اسی مطّلبی سے ہم کو راہ پر لائے ہیں بے راہ روی سے ہم کو کیسے الفت نہ ہو شاہِ مدنی سے ہم کو آگہی بخشی ہے ذاتِ ازلی سے ہم کو اور آگاہ […]

نعتِ شہِ دیں کا مجھے یارا تو نہیں ہے

چپ بیٹھ رہوں یہ بھی گوارا تو نہیں ہے صدیوں سے ہزاروں نے لکھا وصفِ نبی پر یکجا بھی کریں سب کو تو سارا تو نہیں ہے چمکا رخِ ہستی ہے زِ انوارِ محمد مہتابِ جہاں تاب ہے تارا تو نہیں ہے انسان کے دکھ درد کبھی مٹ نہیں سکتے بِن اس کی اطاعت کئے […]

نبی کی نعت لکھیں تھا نہ حوصلہ ہم کو

پہ فرطِ شوق نے مجبور کر دیا ہم کو صفِ رسل میں دکھائی دیا بڑا ہم کو بذاتِ مصطفوی ناز ہے بجا ہم کو نصیب دامنِ رحمت ہو آپ کا ہم کو اب اور چاہئے سچ پوچھئے تو کیا ہم کو نبی ملا تو خدا کا پتہ چلا ہم کو جب اس کی راہ چلے […]

یہ دل پر فضلِ ربی کا اثر ہے

کہ محوِ مدحتِ خیر البشر ہے کہے صلِّ علیٰ ہر ایک سن کر محمد نام پیارا کس قدر ہے وہ فخرِ انبیاء محبوبِ رب وہ سرِ عرشِ بریں بھی جلوہ گر ہے رفیع الذکر ہے وہ کملی والا بہر سو تذکرہ آٹھوں پہر ہے نہیں کچھ جز مصلیٰ اور بستر اثاثُ البیت کتنا مختصر ہے […]

سانحۂ اجودھیا (شہادتِ بابری مسجد)

زخم خوردہ ہوا دل اشک چکیدہ آنکھیں پڑھ کے منحوس خبر قلب سے نکلی آہیں کام ہندو نے جنوں خیز و دل افگار کیا بابری مسجدِ ذیشان کو مسمار کیا تودۂ خاک میں تبدیل وہ شہکار کیا مسلمِ ہند کو آمادۂ پیکار کیا منہدم کر کے ستم پھر کہ اسی کے اندر رام کے نام […]