گل و گلاب، عنادل کی نغمگی تجھ سے

بہارِ تازہ کے پہلو میں زندگی تجھ سے جہانِ حسن کو ملتی ہے تیرے اسم سے خیر وجودِ عشق نے پائی ہے تازگی تجھ سے عروسِ شب کے سرہانے ترے کرم کا غلاف نگارِ صبح کے دامن میں روشنی تجھ سے مجال شاہوں کی، اُس سے کریں شہی کی بات ترے فقیر کو حاصل ہے […]

تمازتوں میں کرم کی ٹھنڈی پھوار بطحا

اُجاڑ بنجر زمیں پہ فصلِ بہار بطحا ہر ایک منظر ہی اُس کے منظرکا عکسِ تاباں ہر ایک منظر کو دے رہا ہے نکھار بطحا بہت ہی دلکش، نجوم جیسے ہیں سنگ تیرے بہت ہی نازک مزاج ہیں تیرے خار بطحا عجب نہیں ہے کہ تیری جانب کھچے چلے ہیں کہ بے قراروں کی ُتو […]

چشمۂ جود و سخاوت ہیں ترے گیسوئے نور

قاسمِ نکہت و رنگت ہیں ترے گیسوئے نور شانۂ نور پہ وہ چہرۂ انور کے قریں خَم بہ خَم گوشۂ حیرت ہیں ترے گیسوئے نور رنگ میں جیسے کوئی رنگوں کا بازار ُکھلے حسن میں حدِّ نہایت ہیں ترے گیسوئے نور تہہ بہ تہہ، معنیٰ بہ معنیٰ ہے کرشمہ سازی مصدرِ عِلمِ بلاغت ہیں ترے […]

حصارِ خیر میں رکھی رہیں صدائیں سب

عطائیں ساتھ اُڑا لے گئیں دُعائیں سب بس ایک حرفِ شفاعت کی دیر تھی واللہ یہیں دھرے کی دھری رہ گئیں خطائیں سب مَیں چوم لیتا ہوں مُشکل کُشا کا اِسمِ علی وہ ٹال دیتے ہیں جتنی بھی ہوں بلائیں سب وفورِ شوق میں رقصاں ہے تیرے اِسم کا نور وجودِ حُسن میں تاباں تری […]