گل و گلاب، عنادل کی نغمگی تجھ سے
بہارِ تازہ کے پہلو میں زندگی تجھ سے جہانِ حسن کو ملتی ہے تیرے اسم سے خیر وجودِ عشق نے پائی ہے تازگی تجھ سے عروسِ شب کے سرہانے ترے کرم کا غلاف نگارِ صبح کے دامن میں روشنی تجھ سے مجال شاہوں کی، اُس سے کریں شہی کی بات ترے فقیر کو حاصل ہے […]