شہرِ امکان میں وہ ساعتِ حیرت آئے

لفظ سوچوں تو لبوں پر تری مدحت آئے پورے احساس میں کھِل اُٹھیں بہاریں جیسے دل دریچے سے تری یاد کی نکہت آئے ساتھ رکھتا ہوں ترے خواب میں آنے کا یقیں قریۂ جان میں تنہائی سے وحشت آئے جادۂ شوق پہ رنگوں کی دھنک آرائی بہرِ ترحیب سلامی لئے طلعت آئے سارے امکان کریں […]

وہ مری فکر سے ادراک سے برتر مہکے

اُس کی مدحت کا ہر اِک حرف برابر مہکے حسن کے سارے تناظر ہیں اُسی کے منظر وہ مری آنکھ میں چمکے، مرے لب پَر مہکے وہ زمیں زاد زمانوں کا شگفتہ پیکر اُس کی خوشبو کا سفر عرش کے اُوپر مہکے اُن کے آنے کی خبر خواب کے پردوں سے پرے اُن کے ہونے […]

بات بن جاتی ہے اپنی بھی تری بات کے ساتھ

دائرے ذات کے بُنتا ہوں تری نعت کے ساتھ اذن کے سارے دریچوں سے ہَوا آتی ہے خامۂ شوق بھی جھوم اُٹھتا ہے نغمات کے ساتھ ایک امکان بھی رہتا ہے پسِ حرفِ نیاز آپ آ جائیں کسی رات کے لمحات کے ساتھ سلسلے حرف کے جُڑتے ہیں بکھر جاتے ہیں اک تری نعت ہو […]

وفورِ شوق میں ہے، کیفِ مشکبار میں ہے

حیاتِ نعت مری عرصۂ بہار میں ہے یہ جاں، یہ شوق بہ لب، تیری رہگذارِ ناز یہ دل، یہ دید طلب، تیرے انتظار میں ہے تری عطا ترے الطافِ بے بہا مجھ پر مری طلب ترے اکرام کے حصار میں ہے ترے کرم، تری بخشش کا کب، کہاں ہے شمار مری خطا ہے جو حد […]

شایانِ شان کچھ نہیں نعتوں کے درمیاں

اِک بے بسی سی ہے مرے حرفوں کے درمیاں لکھنے لگا ہُوں بوند سمندر کے سامنے سہما ہُوا ہے شعر بھی بحروں کے درمیاں جلوہ فگن حضور، صحابہ کے بیچ میں ہے ماہتاب جیسے ستاروں کے درمیاں خالص معاملہ یہ حبیب و محب کا ہے غلطاں ہے سوچ کیوں بھلا ہندسوں کے درمیاں ساری متاعِ […]

محورِ دو سرا پہ قائم ہے

زیست ان کی رضا پہ قائم ہے نظمِ نطق و نظامِ حرف و ہنر تیری مدح و ثنا پہ قائم ہے نیلگوں آسمان کی رفعت آپ کے نقشِ پا پہ قائم ہے موجۂ خندۂ گلِ خوش رنگ تیرے لطف و عطا پہ قائم ہے یہ نظامِ جہانِ عفو و کرم آپ ہی کی رضا پہ […]

وہ میری نعت میں ہے، میری کائنات میں ہے

حیات محوِ سفر اُس کے التفات میں ہے بس ایک لمحے کو سوچا تھا اُس کا اسمِ کریم وہ روشنی ہے کہ تا حدِ ممکنات میں ہے اِسے مدینے کی آب و ہَوا میں لوٹا دے سخی یہ طائرِ جاں سخت مشکلات میں ہے جو تیری مدح کی دہلیز جا کے چھو آئے کمال ایسا […]

یہ تیری نعت کا منظر کہاں کہاں چمکا

ترا کرم ، مرے حرفوں کے درمیاں چمکا یہ تیرا حرفِ ترنم کہ رتجگے مہکے یہ تیرا اذنِ تکلّم کہ بے زباں چمکا سنبھال رکھا تھا دل کو بہ طرزِ طوقِ جتن اشارہ ملتے ہی یہ تو کشاں کشاں چمکا وہ آفتابِ نبوت ، وہ وجۂ کون و مکاں حرا کی کوکھ سے اُبھرا تو […]

مَیں مدینے میں ہُوں اور میرا گماں مجھ میں ہے

ایک لمحے کو لگا سارا جہاں مجھ میں ہے پورا منظر ہے کسی اور تناظر میں رواں وہ جو تھا پہلے نہاں اب وہ عیاں مجھ میں ہے سامنے ُگنبدِ خضریٰ کے کھڑے سوچتا ہُوں آسماں زاد کوئی خواب رواں مجھ میں ہے حرف کے چہرۂ ادراک پہ آنکھیں بن کر کوئی آواز پسِ صوتِ […]

کریم اپنی ہی خاکِ عطا پہ رہنے دے

زمیں سے آیا ہوا ہوں سما پہ رہنے دے بکھر نہ جاؤں کہیں برگِ بے شجر کی طرح کریم، شاخِ کرم کی وفا پہ رہنے دے بہت ہی تیز ہواؤں نے گھیر رکھا ہے کریم ، ہاتھ مرے دل دِیا پہ رہنے دے خطائیں لایا ہوں نعتوں کی طشت میں رکھ کر یہ ایک پردہ […]