تری امید ترا انتظار جب سے ہے
نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے ہوا ہے جب سے دل ناصبور بے قابو کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول […]
معلیٰ
نہ شب کو دن سے شکایت نہ دن کو شب سے ہے کسی کا درد ہو کرتے ہیں تیرے نام رقم گلہ ہے جو بھی کسی سے ترے سبب سے ہے ہوا ہے جب سے دل ناصبور بے قابو کلام تجھ سے نظر کو بڑے ادب سے ہے اگر شرر ہے تو بھڑکے جو پھول […]
چوپال پہ بوڑھوں کی کہانی بھی سنا کر معلوم ہوا ہے یہ پرندوں کی زبانی تھم جائے گا طوفان درختوں کو گرا کر پیتل کے کٹورے بھی نہیں اپنے گھروں میں خیرات میں چاندی کا تقاضا نہ کیا کر ممکن ہے گریبانوں میں خنجر بھی چھپے ہوں تو شہر اماں میں بھی نہ بے خوف […]
لباس صلح کرانے میں پھٹ بھی سکتا ہے تم اپنے کرب کا اظہار کر بھی سکتی ہو پیاز کاٹ کر یہ وقت کٹ بھی سکتا ہے تو جس کی فتح کے نعرے لگانا چاہتا ہے خراج لے کے وہ لشکر پلٹ بھی سکتا ہے ہے اختیار میں تھوڑی گناہ عالم وجد کسی سے آدمی جا […]
ہمارا مسئلہ معدوم کی وضاحت ہے مجھے بھی ناؤ میں گننے کا شکریہ لیکن قریب کا یہ جزیرہ برائے خلقت ہے یہ کچے سیب چبانے میں اتنے سہل بھی نہیں ہمارا صبر نہ کرنا بھی ایک ہمت ہے ہیں نرخ ایک سے بازارِ حسن و حرمت کے وہی بدن کی وہی پیرہن کی قیمت ہے […]
کوئی سانحہ مری آنکھ تر نہیں کر سکا مجھے علم تھا مجھے کم پڑے گی یہ روشنی سو میں انحصار چراغ پر نہیں کر سکا مجھے جھوٹ کے وہ جواز پیش کیے گئے کسی بات پر میں اگر مگر نہیں کر سکا مرے آس پاس کی مفلسی مری معذرت ترا انتظام میں اپنے گھر نہیں […]
سلسلہ اور بڑھائیں گے نہیں موت کی دوسری کوشش پر لوگ مرنے والے کو بچائیں گے نہیں باز رہیے ابھی انگڑائی سے آپ ورنہ تصویر میں آئیں گے نہیں کیسے فطرت سے بغاوت کر لیں خاک ہیں خاک اڑائیں گے نہیں ہم اگر تیرا بھرم رکھ بھی لیں لوگ لوگوں سے چھپائیں گے نہیں ہم […]
لفظ کو راستہ بنادیا ہے بے خیالی میں جس کو پایا تھا ڈھونڈنے میں اسے گنوادیا ہے احتیاطِ فصیل و در کیسی جب کرایہ مکان کا دیا ہے رک گئے ہیں جہاں سے روکا گیا لگ گئے ہیں جہاں لگا دیا گیا تم بخیلی سے کام لیتے ہو رب نے ہم کو جو دل بڑا […]
کوئی چراغ جلایا نہ میں نے جلنے دیا ہم اس کا رد عمل جانتے تھے پہلے سے سو ہم نے گیند زیادہ نہیں اچھلنے دیا دلیل اس کے دریچے کی پیش کی میں نے کسی کو پتلی گلی سے نہیں نکلنے دیا پھر اس کے بعد گلے سے لگا لیا میں نے خلاف اپنے اسے […]
کسی کے ساتھ گزاری کسی کے نام کی شام ازالہ ہو گیا تاخیر سے نکلنے کا گزر گئ ہے سفر میں مرے قیام کی شام نہ کوئی خواب دکھایا نہ کوئی عہد کیا بدن ادھار لیا بھی تو اس سے شام کی شام مسافروں کے لیے دشت کیا سرائے کیا ہمیں تو ایک سی لگتی […]
ایسے جاتے ہیں ندی پار کو لوگ میں تو منزل کی طرف دیکھتا ہوں دیکھتے ہیں مری رفتار کو لوگ سائے کا شکر ادا کرنا تھا سجدہ کرتے رہے دیوار کو لوگ آئنہ میرے مقابل لائے خوب سمجھے مرے معیار کو لوگ نام لکھتے ہیں کسی کا لیکن دکھ بتاتے نہیں اشجار کو لوگ صبر […]