اشعارِ غزل پر رکھ دینا تیشہ نہ کہیں تنقیدوں کا
شیشے سے بھی نازک ہوتے ہیں یہ سیم بدن اصنامِ غزل
معلیٰ
شیشے سے بھی نازک ہوتے ہیں یہ سیم بدن اصنامِ غزل
میں اپنے ساتھ اپنی بے زبانی لے کے آیا ہوں
آپ سچ کہتے ہیں ، ہاں آپ بجا کہتے ہیں
اتراتی ہوئی گناہ گاری آئی غم دور ہوا عزیزؔ خوش ہو خوش ہو کس شان سے مغفرت ہماری آئی
غفلت شب و روز سامنے سے نہ مٹی اب وقت اجل بہت قریب آ پہونچا یہ عمر عزیزؔ کس خرابی سے کٹی
اللہ رے غمزے کہ سنبھلے نہیں دیتے کافر نہیں کرتے ہیں مسلماں نہیں رکھتے دم بھر مجھے اک راہ چلنے نہیں دیتے لبریز ہے دل جوش انا اللہ سے لیکن اس کوزے سے دریا کو ابلنے نہیں دیتے کر جاتے ہیں ہر درد میں آکر مری تسکیں لخت دل صد پارہ اگلنے نہیں دیتے عاشق […]
اس کی صورت میں سراپا ہو گیا حق سمجھ کر پوجتا ہوں بت کو میں کعبۂ دل اب کلیسا ہو گیا دیکھتا ہوں یار کو ہر شکل میں دیکھتے ہی دیکھتے کیا ہو گیا جب سے دیکھا ان کو آنکھیں کھل گئیں دیدۂ بے نور بینا ہو گیا اب نہیں قابو میں آتا دل عزیزؔ […]
ہر دم اک فتنہ بپا کرتا ہے عشق ہستیٔ وہمی کو کر دیتا ہے نیست رازدار کبریا کرتا ہے عشق بس وہی پاتا ہے عیش زندگی جس کو غم میں مبتلا کرتا ہے عشق خستہ کر دیتا ہے دل کو درد سے خوں پلا کر پھر دوا کرتا ہے عشق ہے ظہور عشق جو کچھ […]
ہے یہی حقیقت میں بھید مصطفائی کا کر دیا خراباتی ساقیا مجھے تو نے مٹ گیا مرے دل سے نقش پارسائی کا وصل عین دوری ہے بے خودی ضروری ہے کچھ بھی کہہ نہیں سکتا ماجرا جدائی کا رنگ زرد ہوتا ہے دل میں درد ہوتا ہے جب زباں پر آتا ہے ذکر آشنائی کا […]
رہی بیتاب سینہ میں ہماری آرزو برسوں گرا سجدے میں تجھ کو دیکھتے ہی وائے رسوائی کیا تھا جس ولی نے آب زمزم سے وضو برسوں عجب حالت میں ہو جاتا ہے اس کا دیکھنے والا نہ پائے آپ کو ہرگز کرے گر جستجو برسوں نہ پوچھو بے نیازی آہ طرز امتحاں دیکھو ملائی خاک […]