عیاں اور بھی ہیں نہاں اور بھی ہیں
مری حسرتوں کے نشاں اور بھی ہیں پُکارو گے کس کس کو اس انجمن میں مرے نام کےمیہماں اور بھی ہیں مرے گھر کے دیوار و در کو نہ دیکھو غریبوں کے کچے مکاں اور بھی ہیں ضیاؔ صاف دامن سہی لاکھ اپنا گلابی گلابی نشاں اور بھی ہیں
معلیٰ
مری حسرتوں کے نشاں اور بھی ہیں پُکارو گے کس کس کو اس انجمن میں مرے نام کےمیہماں اور بھی ہیں مرے گھر کے دیوار و در کو نہ دیکھو غریبوں کے کچے مکاں اور بھی ہیں ضیاؔ صاف دامن سہی لاکھ اپنا گلابی گلابی نشاں اور بھی ہیں
آئینۂ نگاہ کو حیران کر گیا میں شہرِ دوستی ہوں مرے دوستو مجھے آباد کر گیا کوئی ویران کر گیا دل کی جراحتیں جو کبھی مندمل ہوئیں وہ مبتلائے حسرت و ارمان کر گیا
پھول اچھے نہ گلستاں اچھا غم نصیبوں کا ایک ہی آنسو بلبل و گل کے درمیاں اچھا کل نئی سوچ کی سحر ہوگی آج وہ ہم سے بدگماں اچھا ریگزاروں میں یا گلستاں میں آپ کہیے کہ میں کہاں اچھا منزلیں تو ہزار ملتی ہیں اک مسافر رواں دواں اچھا
یہ بہاروں میں چمن کی داستاں ہو جائے گا غنچہ معصوم کانٹوں میں جواں ہو جائے گا خار میری حسرتوں کے آپ کے جلووں کے پھول یہ بہم ہو جائیں تو ,اک گلستاں ہو جائے گا آپ بھی روشن رکھیں اپنی محبت کے چراغ یہ دیئے گل ہو گئے تو پھر دھواں ہو جائے گا […]
تجھے پا کر کیا کرتا ہوں اپنی جستجو برسوں مجھے دیر و حرم جانا ضروری تھا مرے ساقی مرے ہونٹوں کو ترسے ہیں ترے جام و سبو برسوں بڑی تاخیر سے تیرا پیامِ بے رخی آیا خزاں کے واسطے ترسی بہار ِ آرزو برسوں خزاں آتے ہوئے ڈرتی ہے ایسے گلستانوں میں جہاں کانٹے پیا […]
ہماری سرزمینِ پاک میں دشمن در آئے تھے اسی شب ہم نے عزمِ خاص کے سورج جگائے تھے قیامت ساز ہنگامے وہ اپنے ساتھ لائے تھے مگر ہم نے مقابل میں نئے محشر اٹھائے تھے جوان و پیر و کمسن سب بھرے گھر سے نکل آئے کماں تھی باپ کے ہاتھوں میں بچے تیر لائے […]
میکدے میخوار پیمانے جدا ہونے لگے بت پرستوں کے صنم خانے جدا ہونے لگے شہر جنگل اور ویرانے جدا ہونے لگے پیڑ پتے باغ گلخانے جدا ہونے لگے مرحبا انیس سو چالیس کی تیئیس مارچ اپنی منزل اپنے کاشانے جدا ہونے لگے تھی ابھی ذہنوں میں پاکستان کی قوس قزح اپنے رنگا رنگ کاشانے جدا […]
محبتوں کا حسیں آبشار ہے مادر علاج گردش لیل و نہار ہے مادر خزاں کی رت میں نسیم بہار ہے مادر عظیم نعمت پروردگار ہے مادر — پڑی ہے رب کی رضایت بھی ماں کے قدموں میں ملے گی دولت جنت بھی ماں کے قدموں میں — جہاں میں ہستئ صد ذی وقار ہے مادر […]
وہاں تک خودی ہے وہاں تک خدا ہے
ہائے کیا طرزِ دلربائی ہے