ہر چند وقفِ یاس ہے تصویرِ کائنات
اے دل مگر وہ حسن کا پیکر بھی دیکھ لے
معلیٰ
اے دل مگر وہ حسن کا پیکر بھی دیکھ لے
کوئی سُنے تو دل کا بھی کچھ ماجرا کہیں
جب ہو سکا نہ ضبطِ الم ، مسکرا دئیے
صدیوں کے جو بُت ٹوٹے لمحوں کے خدا آئے
اک در میں کیا کشش تھی ، اک رہگذر میں کیا تھا کیوں دیکھ کر اسے ہم وقفِ الم ہوئے تھے اس دل کو کیا ہوا تھا ، اُس عشوہ گر میں کیا تھا فکر و نظر نے کھولے کتنے رموزِ ہستی لیکن کھلا نہ اس کی پہلی نظر میں کیا تھا آتے ہیں یاد […]
گزری شہیدِ عشق پہ کیا ہم سے پوچھیے رحمت گناہگارِ محبت پہ ہو نہ ہو خوف و ہراسِ روزِ جزا ہم سے پوچھیے مرضی خدا کی کیا ہے کوئی جانتا نہیں کیا چاہتی ہے خلقِ خدا ہم سے پوچھیے کٹتا ہے دن نہ رات گزرتی ہے چین سے بے لطف زندگی کی سزا ہم سے […]
پہلو میں محبت کا صنم لے کے چلے ہیں صحرا میں کہاں پرتوِ اندازِ گلستاں خود اپنی نگاہوں کا بھرم لے کے چلے ہیں کیا حال ہے دل کا اسے اب کون بتائے محفل سے تری دیدۂ نم لے کے چلے ہیں کانٹوں کا گلہ کیا ہے کہ ہم راہِ طلب میں اک دشتِ بلا […]
اور ہم شکوۂ تنہائی لیے بیٹھے ہیں مرگ تو گھات میں ہے اور ادب کے معمار فن کی تکمیل یہ سوادائی لیے بیٹھے ہیں اتھلے پانی سے برآمد ہوئی لاشیں اور ہم فکرِ اقبال کی گہرائی لیے بیٹھے ہیں غالبؔ و میرؔ نے کس کس سے محبت کی تھی غم یہ تحقیق کے شیدائی لیے […]
خوشا اے زندگی خوابوں کی دنیا چھوڑ دی میں نے جو رہتیں بھی تو میرے شوق کی گلکاریاں کب تک چلو اچھا ہوا تزئینِ صحرا چھوڑ دی میں نے نہ ہو جب حال ہی اپنا تو مستقبل کی پروا کیا غمِ امروز چھوڑا ، فکرِ فردا چھوڑ دی میں نے مرض وہ ہے کہ صدیاں […]
سراپا ہو تصور میں کوئی جلوہ گر جیسے مشغولِ غفلت اور پھر شوقِ خلوت بھی دیوانہ ہی ہو بیاباں میں دربدر جیسے جذبات میں تلاطم اور نہ آتشِ شوق چھا ہی گئی ہو کوئی دِل پہ کہر جیسے گرہن سا گرہن لگ رہا ہے اے ماہِ کامل طلوع سی ہو رہی ہو مرگِ سحر جیسے […]