مانا کہ عرضِ حال کے قائل نہیں تھے ہم
سمجھے نہ کوئی ایسی بھی مشکل نہیں تھے ہم کچھ ہو گئیں خطائیں تو معذور جانئے انسان ہی تھے جوہرِ کامل نہیں تھے ہم اپنے ہی شہر میں ہمیں مہماں بنا دیا اتنی مدارتوں کے تو قابل نہیں تھے ہم طوفاں ملے جو ہم سے تو شکوہ نہ کیجئے اک بحرِ اضطراب تھے ساحل نہیں […]