مجھے اذیتیں آتی ہیں راس ، تیرے دئیے
یہ چند روگ مرا کیا بگاڑ سکتے ہیں یہ صرف لوگ ہیں کومل کوئی خدا تو نہیں بھلا یہ لوگ مرا کیا بگاڑ سکتے ہیں
معلیٰ
یہ چند روگ مرا کیا بگاڑ سکتے ہیں یہ صرف لوگ ہیں کومل کوئی خدا تو نہیں بھلا یہ لوگ مرا کیا بگاڑ سکتے ہیں
دریا کے آس پاس کوئی گھر بنائیے
وہ درندے بھی تو ماؤں نے جَنے ہوتے ہیں
طلب جدائی کی اپنی ملاپ کی اپنی قدم بڑھاتے ہوئے ڈگمگا گئے ہم لوگ اٹھا کے گٹھڑی چلے پُن و پاپ کی اپنی میں کس کے چھوڑ کے جانے پہ کم کروں ماتم کہ ماں کی اپنی محبت تھی باپ کی اپنی میں خود ہی پیچھا کئی دن سے کررہی اپنا سنی ہے میں نے […]
مجھے کسی نہ کسی سے تو عشق ہونا تھا
قصہء خوب اور خراب پہ داد ممتحن ! عشق کے نصاب پہ داد پھر وہی اک سوال قربت کا پھر ترے جھوٹ کے جواب پہ داد اس برے وقت میں بھلا سا لگا جاگتی چشمِ نم کے خواب پہ داد عشق ہے اور بے حساب بھی ہے ؟ یار ، اس لفظ بے حساب پہ […]
حادثے کو بھی المناک نہیں ہونے دیا
ہم پرندوں پہ برا وقت نہ آنے دیں گے
پتھروں کو بھی ترے خواب دکھائی دیتے
اب جو قاتل ہے وہ مقتول بھی ہوسکتا ہے