حیرت ہے سرِ دار جو مصلوب رہا ہے

اس شخص کا ہر داؤ بہت خوب رہا ہے آج اس کی خموشی پہ نہ تم انگلی اٹھاؤ سنتے ہیں کہ وہ صاحبِ اسلوب رہا ہے اب وقت نے سب نقش بگاڑے ہیں وگرنہ یہ شہر مرے حُسن سے مرعوب رہا ہے اے چھوڑے ہوئے شخص مجھے دکھ ہے کہ تجھ سا کم ظرف مرے […]

سب کی وحشت کو خلاؤں میں لگایا ہوا ہے

دکھ نے میلہ سا ہواؤں میں لگایا ہوا ہے لوگ پہچان لیا کرتے ہیں اکثر ، میں نے تیری خوشبو کو قباؤں میں لگایا ہوا ہے اس کے رستے پہ بچھا رکھی ہیں اپنی آنکھیں اور سماعت کو فضاؤں میں لگایا ہوا ہے دل ترے شہر کی رونق میں الجھ جاتا ہے پوچھ مت کیسے […]