جس کو عورت کا احترام نہ ہو

مجھ سے وہ شخص ہم کلام نہ ہو میری خواہش ہے عشق ہو مجھ کو اور پھر اور کوئی کام نہ ہو جل ہی جائے ہوا ستمبر کی کوئی اتنا سبک خرام نہ ہو عام لوگوں کو بھی میسر ہے اس سے کہنا کہ اور عام نہ ہو بزدلوں کی بناو فہرستیں یاد رکھنا کہ […]

شجر کہاں تک بھلا ہواؤں کے کان بھرتے

اگر پرندے خلوص دل سے اڑان بھرتے وہ سرخ پھولوں سا شخص بازار آیا ہوتا تو سارے خوشبو فروش اپنی دکان بھرتے اے کم میسر !! ترا نہ ہونا تو طے شدہ تھا مگر جو نقصان ہو چکا وہ تو آن بھرتے ہمارے ملنے کی شرط شائد بہت کڑی تھی کہ جس کا تاوان عمر […]

مرے سینے میں اک ٹکڑا فسادی کردیا نا

دلِ معصوم کو آتنک وادی کردیا نا مرے سینے میں اک ٹکڑا فسادی کردیا نا جو تیری قربتوں سے آشنا تھی اس ہوا نے تری خوشبو کو گلیوں میں منادی کر دیا نا کبھی وہ میرا دل تھا اب جو تیری سلطنت ہے محبت کر کے تجھ کو شاہزادی کر دیا نا پھر اس نے […]

بخت میں ایسی کوئی شام نہ ہو

ساتھ تجھ جیسا خوش خرام نہ ہو چل پڑوں میں انا کے رستے پر یہ سفر عمر بھر تمام نہ ہو ملنے آ جانا میرے بنجارے جب محل میں کوئی غلام نہ ہو چل پڑیں لوگ جانبِ دریا اور کشتی کا اہتمام نہ ہو ہجر تا عمر ساتھ رہ جائے یہ رفاقت بھی چند گام […]

وہ بھیجتا تھا دلاسے تو اعتماد بھرے

مگر یہ زخم بڑی مدتوں کے بعد بھرے قسم خدا کی بغاوت کی سمت کھینچتے ہیں یہ سب رویے تعصب بھرے ، عناد بھرے کہیں پہ عکس مکمل ، کہیں ادھورے تھے جو آئینے بھی میسر تھے سب تضاد بھرے یہ عشق ایک دن اپنی ہوس دکھائے گا سو نظریات بدل لینا اعتقاد بھرے جو […]