کسی کے دل کو دُکھا کر نماز پڑھتے ہو
خدا کرے یہ نمازیں قبول ہوجائیں تمہارے نام لکھی چٹھیاں تمہارے بعد نجانے گاؤں میں کس کو وصول ہو جائیں
معلیٰ
خدا کرے یہ نمازیں قبول ہوجائیں تمہارے نام لکھی چٹھیاں تمہارے بعد نجانے گاؤں میں کس کو وصول ہو جائیں
مر تو جاؤں گی تری جان نہیں چھوڑوں گی عشق لایا تھا مجھے گھیر کے اپنی جانب اس منافق کا گریبان نہیں چھوڑوں گی یہ تو ترکہ ہے جو پرکھوں سے ملا ہے صاحب دشت کو بے سرو سامان نہین چھوڑوں گی یہ نہ ہو سین بدلتے ہی بچھڑ جائے تو ہاتھ میں خواب کے […]
تو کوئی ورد ، کوئی اسم ، بتا جانتا ہے بس قیافوں پہ مجھے چھوڑ کے جانے والے یہ ترا شہر مرے بارے میں کیا جانتا ہے ؟ مشورے دیتے ہوؤں کو بھی کہاں ہے معلوم اتنا معصوم نہیں ، اچھا برا جانتا ہے تو نے کیا سوچ کے مضمون چرایا میرا دین اسلام میں […]
دیکھا توہے کسی طرف ، دیکھیے کیا دکھائی دے تب مَیں کہوں کہ آنکھ نے دید کا حق ادا کیا جب وہ جمال کم نُما دیکھے بِنا دکھائی دے دیکھے ہووٗں کو بار بار دیکھ کے تھک گیا ہوں میں اب نہ مجھے کہیں کوئی دیکھا ہوا دکھائی دے ایک سوال ، اِک جواب ، […]
خالی جھولی لیے ویران شجر بچتا ہے نکتہ چیں ! شوق سے دن رات مرے عیب نکال کیونکہ جب عیب نکل جائیں ، ہنر بچتا ہے سارے ڈر بس اس ڈر سے ہیں کہ کھو جائے نہ یار یار کھو جائے تو پھر کونسا ڈر بچتا ہے غم وہ رستہ ہے کہ شب بھر اسے […]
سات رنگوں کی صدا آٹھ پہر آتی ہے شاعری نامی پرندے کے ذریعے مُجھ تک کتنے نادیدہ زمانوں کی خبر آتی ہے حیرتی ہوں کہ گلی والے گُلوں کی خوشبو کیسے در کھولے بِنا صحن میں دَر آتی ہے کون فنکار سنبھالے وہاں مصرعے کی لچک قافیہ بن کے جہاں تیری کمر آتی ہے فیصلہ […]
مجھے مناتی رہی ، میں نے تو منائی نہ تھی
دیکھئے اتفاق راتوں میں میری، اُس کی دعائیں ایک سی تھیں جُفت ہونے کی طاق راتوں میں
جب اس نے ہاتھ میں خنجر اٹھایا، ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا ہماری قسمتوں نےحال بدلا، ستارہ کیسے اپنی چال بدلا؟ جو ہاتھوں کی لکیروں کو ٹٹولا، ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
مجھے پتہ ہے کہ اب تُو منانے والا نہیں مکان دل میں کوئی آکے بس گیا آسیب وہ جانتا ہے یہاں کوئی آنے والا نہیں