زخم ، بھر بھی جائے توکتنا فرق پڑتا ہے؟

قتل کر بھی جائے توکتنا فرق پڑتا ہے؟ عشق کو خفا کر کے ، چاند سی حسیں دلہن بن سنور بھی جائے تو، کتنا فرق پڑتا ہے؟ منتظر کوئی ناں ہو، تو سویر کا بھولا شام گھر بھی جائے توکتنا فرق پڑتا ہے؟ پونچھنا نہ ہو جس کو، پُوچھنا نہ ہو جس کو آنکھ بھر […]

وہ بھی اب یاد کریں کس کو منانے نکلے؟

ہم بھی یونہی تو نہ مانے تھے ، سیانے نکلے میں نے محسوس کیا جب بھی کہ گھر سے نکلا اور بھی لوگ کئی کر کے بہانے نکلے آج کی بات پہ میں ہنستا رہا ہنستا رہا چوٹ تازہ جو لگی درد پرانے نکلے ایک شطرنج نما زندگی کے خانوں میں ایسے ہم شاہ جو […]

تڑپتی، رینگتی، لوگوں کے ہاتھوں مر مر کر

نہیں وہ زندگی جائز کہ جو ہو ڈر ڈر کر تُو آنکھ بھر کے مجھے دیکھ لے مِرے پیارے وگرنہ بعد میں روئے گا آنکھ بھر بھر کر اثر نہ سجدوں کا دل کی سیاہیوں پہ ہوا سِیاہ ہو گئی تیری جبین دھر دھر کر معاف تجھ کو کروں گا مگر زرا پہلے تُو میرے […]

آگئے آپ پر آئے بڑی تاخیر کے ساتھ

بات اب کیجئے دیوار پہ تصویر کے ساتھ میری تلوار چرا کر بھی عدو ہار گیا میرے جیسا کوئی بازونہ تھا شمشیر کے ساتھ مصحف عشق میں ترمیم و اضافے کے سبب میں گناہ گار ہوں مارو مجھے زنجیر کے ساتھ چونکہ ہر بار مجھے تجھ سے جدا کرتی ہے اس لئے بنتی نہیں ہے […]

اس سے پہلے کہ ہوا شور مچانے لگ جائے

میرے اللہ میری خاک ٹھکانے لگ جائے گھیرے رہتے ہیں کئی خواب میری آنکھوں کو کاش کچھ دیر مجھے نیند بھی آنے لگ جائے تو ضروری ہے کہ میں مصر سے ہجرت کر جاؤں جب زلیخا ہی میرے دام لگانے لگ جائے سال بھر عید کا راستہ نہیں دیکھا جاتا وہ گلے مجھ سے کسی […]

یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟

جواب دے کوئی مجھ کو اگر یہاں کوئی ہے وہ جو بھی ہے،مجھے ہونے نہ دے گا تیرا کبھی پتہ نہیں ہے مگر اپنے درمیاں کوئی ہے ترا غرور مجھے پا کے کچھ غلط بھی نہیں یہاں پہ مجھ سے زیادہ حسیں جواں کوئی ہے؟ یہ دشمنوں کو گلہ ہے کہ ان کے بچنے کو […]

رات کی دھڑکن جب تک جاری رہتی ہے

سوتے نہیں ہم ذمہ داری رہتی ہے جب سے تو نے ہلکی ہلکی باتیں کیں یار طبیعت بھاری بھاری رہتی ہے پاؤں کمر تک دھنس جاتے ہیں دھرتی میں ہاتھ پسارے جب خودداری رہتی ہے وہ منزل پر اکثر دیر سے پہنچے ہیں جن لوگوں کے پاس سواری رہتی ہے چھت سے اس کی دھوپ […]

کھڑے ہیں مجھکو خریدار دیکھنے کے لیے

میں گھر سے نکلا تھا بازار دیکھنے کے لیے ہزاروں بار ہزاروں کی سمت دیکھتے ہیں ترس گئے تجھے ایک بار دیکھنے کے لیے قطار میں کئی نابینا لوگ شامل ہیں امیر شہر کا دربار دیکھنے کے لئے جگائے رکھتا ہوں سورج کو اپنی پلکوں پر زمیں کو خواب سے بے دار دیکھنے کے لئے […]

ایک دو آسمان اور سہی

اور تھوڑی اڑان اور سہی شہر آباد ہوں درندوں سے جنگلوں میں مچان اور سہی دھوپ کو نیند آ بھی سکتی ہے چھاؤں کی داستان اور سہی بارشوں حوصلے بلند رہیں میرا کچا مکان اور سہی یہ پسینہ تو اپنی پونجی ہے ایک مٹھی لگان اور سہی غلطیوں سے نوازتا ہے مجھے ایک اہل زبان […]